BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 July, 2006, 08:39 GMT 13:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیمی کے خلاف مقدمہ مؤخر

ممبئی دھماکوں کے بعد حلات بدل گئے اور سیمی پر انگلی اٹھنے لگی۔
ممبئی دھماکوں کے بعد حلات بدل گئے اور سیمی پر انگلی اٹھنے لگی۔
بہرائچ ضلع کی ایک مقامی عدالت نے ’سٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا‘ یعنی سیمی کے سابق صدر شاہد بدر فلاحی اور دیگر گیارہ کارکنوں کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ واپس لینے کی ریاستی حکومت کی درخواست پر سماعت مؤخر کر دی ہے۔

اس برس 30 جون کو یہ درخواست اتر پردیش حکومت کی طرف سے ایک سرکاری وکیل نے فاسٹ ٹریک ع‍‍‍دالت کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی تھی۔
مقدمہ واپس لینے کے خلاف آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد سے وابستہ مقامی وکیلوں نے بھی ایک درخواست عدالت میں پیش کی ہوئی ہے۔

وی ایچ پی کے بھگوان بخش سنگھ ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت قانون کے تحت مقدمہ واپس نہیں لے سکتی۔

سیمی کے سابق ریاستی صدر نصرت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں سیاسی کھیل میں ایک سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’ہماری تنظیم کے کسی بھی رکن پر کوئی الزام عدالت میں ثابت نہیں ہوا ہے ، سیمی کسی دہشتگردی میں ملوث نہيں ہے۔‘

اس مقدمے کی اگلی سماعت بیس جولائی کو ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ممبئی بم دھماکوں سے کافی پہلے 19 ستمبر 2005 کو اتر پردیش میں حکومتی سطح پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ چونکہ اتر پردیش میں سیمی کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کر رہی ہے اس لیئے بہرائچ میں جو مقدمے شاہد بدر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف چل رہے ہیں عوامی مفاد میں انہیں واپس لے لیا جا‏ئے۔ اس وقت اس فیصلہ پر ریاستی گورنر نے بھی اپنی منظوری کی مہرثبت کی تھی جس کے بعد ریاستی حکومت کے اسپیشل سکریٹری ایس کے پانڈے نے ضلع مجسٹریٹ بہرائچ کی عدالت میں مئی میں ایک حکم نامہ بھیج کر مقدمہ کی واپسی کے سلسلہ میں مقامی پولیس کو ہدایت دینے کو کہا تھا۔

لیکن گزشتہ ہفتے ممبئی بم دھماکوں کے بعد حلات بدل گئے اور سیمی پر انگلی
اٹھنے لگی۔

دو ہزار ایک میں اتر پردیش میں بی جے پی کے دور حکومت میں بہرائچ کے سر سید کالج میں سیمی کے ایک جلسے میں شاہد بدر فلاحی نے تقریر کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا تھا کہ مندروں میں بارود وغیرہ جمع کیئے گئے ہیں تاکہ مسلمانوں کو قتل کیا جا سکے ۔ بہرائچ میں درج ایف آر آئی کے مطابق شاہد بدر نے کہا تھا کہ: ’مسلمانوں کو ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں تلوار اٹھانی ہے اور پارلیمنٹ کے اندر قرآن کا قانون چلانا چاہیئے۔‘

اس طرح کی تقریر کو اشتعال انگیز مانتے ہوئے شاہد بدر فلاحی سمیت کئی لوگوں کے خلاف ملک سے بغاوت اور نفرت پھیلانے کے مختلف واقعات کے تحت مقدمے درج کیئے گئے ہیں۔ فی الوقت تمام ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو کا موقف ہے کہ سیمی اتر پردیش میں ابھی تک کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائی نہیں گئی ہے حالانکہ اس پر ریاست میں پابندی عائد ہے۔ ریاستی محکمہ داخلہ کے ایک خصوصی افسر آر ایس اگروال نے بتایا کہ سیمی پر پابندی کی حمایت کے لیئے مرکز کی سطح پر قائم ٹربیونل نے پابندی کی تجدید کے لیئے گزشتہ دنون سیمی کارکنوں سے اعتراضات طلب کرنے کےلیئے ریاستی حکومت کو نوٹس بھیجے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد