BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 July, 2006, 08:30 GMT 13:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی: تفتیش لشکر سے آگے بڑھ گئی

ایڈیشنل پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ کسی فرقہ کو بد دل ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تفتیش کا حصہ ہے ۔
ایڈیشنل پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ کسی فرقہ کو بد دل ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تفتیش کا حصہ ہے ۔
ممبئی پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کو ابھی تک ممبئی بم دھماکوں کا سراغ نہیں مل سکا ہے اور وہ اندھیرے میں تیر چلانے میں کوشاں ہیں۔ ان کی تفتیش کا دائرہ لشکر طیبہ اور سیمی جیسی تنظیموں سے آگے اب بنگلہ دیش کی جانب بڑھ گیا ہے ۔ممبئی پولیس اور تفتیشی ایجنسیاں شہر میں ایسے علاقوں میں کومبنگ آپریشن کر رہی ہیں جہاں انہیں بڑی تعداد میں بنگلہ دیشیوں کے ہونے کا خدشہ ہے ۔

انسداد دہشت گردی کے عملہ کے ایک سینئر افسر کے مطابق وہ اس زاویے سے بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں بنگلہ دیشی شدت پسند ذبیح الدین انصاری کا ہاتھ تو نہیں ہے ۔انہیں اس بات کا یقین ہے کہ ٹرینوں میں دھماکوں کے لیئے شدت پسند ممبئی میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے یا پھر انہیں بنگلہ دیش میں تربیت ملی اور ان کی مدد ممبئی کے مقامی بنگلہ دیشیوں نے کی۔

ایک افسر کا دعویٰ ہے کہ اورنگ آباد میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کے بعد ذبیح الدین چوبیس پرگنہ کے ذریعہ بنگلہ دیش فرار ہو چکا تھے لیکن اس کے بعد سے وہ یہاں کے مقامی لوگوں سے رابطے میں تھے۔

پولیس کے اعلی افسران کی جانب سے مسلم اکثریتی علاقوں پر سخت نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے خاص طور ملاڈ اور ماہم پر کیونکہ آئی بی کے مطابق ان علاقوں سے بم دھماکوں کے بعد افغانستان اور پاکستان فون کیئے گئے تھے۔ ان علاقوں میں زبردست تفتیشی آپریشن بھی جاری ہے۔

جمعہ کو رات گئے پولیس نے ڈھائی سو کے قریب افراد کو تفتیش کے لئے حراست میں لیا تھا لیکن پھر تفتیش کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا اور صرف مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کو ہی حراست میں رکھا گیا ہے ۔ ملاڈ میں پولیس نے دو روز قبل جن ڈھائی سو افراد کو تھانےمیں تفتیش کے لئے بلایا تھا، پولیس کو شبہ تھا کہ ان میں سے دو سو کے قریب بنگلہ دیشی ہیں۔

ممبئی کے مسلمانوں میں شہر کے صرف مسلم علاقوں میں ہی تلاشی پر غصہ پایا جاتا ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس یہ بات تسلیم کر کے چل رہی ہے کہ یہ دھماکے مسلم تنظیموں نے ہی کیئے ہیں۔ مسلم عمائدین کے ایک وفد نے اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیش مکھ سے ملاقات کی ہے اور وزیر اعلیٰ نے انہیں یقین دلایا کہ بےگناہ لوگوں کو نہیں ستایا جائےگا۔

ایڈیشنل پولیس کمشنر بپن بہاری کا کہنا تھا کہ صرف ملاڈ اور ماہم ہی نہیں پولیس شہر کے کئی مقامات پر آپریشن کر رہی ہے اور اس سے کسی فرقہ کو بد دل ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تفتیش کا حصہ ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد