’دھماکوں میں سرحد پار کا ہاتھ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ممبئی میں بم دھماکے کرنےوالوں کو سرحد پار سے مدد حاصل تھی۔ ممبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہندوستان سے وعدہ کیا تھا کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا اور جب تک وہ اس وعدے کو پورا نہیں کرتا، دونوں ملکوں کے درمیان امن کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ ممبئی بم دھماکوں میں سرحد پار کی طاقتیں شامل تھیں ورنہ اتنے منظم اور بڑے پیمانے پر شہر میں تباہی ممکن نہیں تھی۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ان طاقتوں کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت موجود ہیں۔ ’وہ ہمارے ملک کی اقتصادیات کو برباد کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کے در پے ہیں جس کی اجازت ہم نہیں دیں گے۔‘ بھارتی وزیر اعظم نے سخت الفاظ میں انتباہ کیا کہ وہ ملک کا امن برباد کرنے والے ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان نے سن دو ہزار چار میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرحدوں کو دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز بننے نہیں دیں گے اس لیئے پاکستان حکومت کو اپنا وہ وعدہ پورا کرنا چاہیۓ۔ منموہن سنگھ نے انٹیلیجنس کے بارے میں بتایا کہ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کو اس کی اطلاع تھی کہ دہشت گرد تنظیمیں شہر میں دہشت پھیلانے کی کوشش کریں گی لیکن کس طرح اس کا اندازہ نہیں تھا۔
وزیر اعظم نے دھماکوں کی تحقیقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیاں صحیح رخ پر کام کر رہی ہیں لیکن ابھی تک کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچیں ہیں اس لیئے پہلے سے کسی تنظیم کا نام لینا ان کے لیئے وزیر اعظم نے ممبئی شہریوں کی تعریف کی کہ ایسے موقع پر انہوں نے ایک دوسرے کی مدد کی اور بیرونی عناصر کو ملک کے امن و امان کو برباد کرنے کا موقع نہیں دیا۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی سے نپٹنے کے لیے ملک کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا اور مرکز اور ریاستی حکومتیں مل کر اس پر کام کریں گی۔ گیارہ جولائی کو ممبئی لوکل ٹرینوں میں ہوئے دھماکوں کے بعد پہلی مرتبہ وزیر اعظم جمعہ کی دوپہر ممبئی پہنچے۔ ان کے ہمراہ مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل، پیٹرولیم کے وزیر مرلی دیورا ، مرکزی وزیر برائے زراعت شرد پوار ممبئی آئے۔ مہاراشٹر کے گورنر ایس ایم کرشنا ، وزیر اعلی ولاس راؤ دیشمکھ ، نائب وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے ساتھ وزیر اعظم نے پہلے سائن ہسپتال اور پھر کے ای ایم ہسپتال کا دورہ کیا ۔وہاں انہوں نے مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن مدد دینے کا وعدہ کیا ۔ حفاظتی انتظامات کے نام پر پہلی مرتبہ صحافیوں کو وزیر اعظم کے ہمراہ ہسپتال میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سائن اور کے ای ایم ہسپتال میں دھماکے میں زخمی ہوئے مریضوں سے ملاقات کرنے کے بعد وزیر اعظم نے ائیر پورٹ پر ہی ریاستی سرکار اور پولیس افسران کے ساتھ ایک میٹنگ بھی کی اور آخر میں انہوں نے پریس سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم کے دورے سے قبل شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیئے گئے تھے |
اسی بارے میں ممبئی دھماکے: ذمہ دار کون؟12 July, 2006 | انڈیا دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے13 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ’سیمی‘ کی مذمت 13 July, 2006 | انڈیا ’پتہ نہیں اب کہاں سے لاش آئی ہے‘14 July, 2006 | انڈیا ممبئی حملہ آوروں کے خاکوں کی تیاری14 July, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||