اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | جتیندرا دوے ممبئی دھماکوں میں ہلاک ہونے والے اپنے والد کی راکھ لے جاتا ہوا |
پاکستان نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے سرحد پار دہشت گردی کے تمام الزامات کو غیرمصدقہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی ایک ایسا روگ بن گیا ہے جس کا جنوبی ایشیا کے تقریبا سب ہی ممالک شکار ہیں۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعہ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگل کے روز ممبئی میں ہونے ہونے والے بم دھماکے دہشت گردی کا وحشیانہ فعل ہیں جس کی پاکستان کے صدر اور وزیراعظم نے واضح طور پر مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے ممبئی بم دھماکوں کے بارے میں جمعہ کے روز ممبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بم دھماکے کرنےوالوں کو سرحد پار سے مدد حاصل تھی۔ ان کے مطابق ممبئی بم دھماکوں میں سرحد پار کی طاقتیں شامل تھیں ورنہ اتنے منظم اور بڑے پیمانے پر شہر میں تباہی ممکن نہیں تھی۔ بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا تھا کہ پاکستان نے ہندوستان سے وعدہ کیا تھا کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا اور جب تک وہ اس وعدے کو پورا نہیں کرتا، دونوں ملکوں کے درمیان امن کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کے پاس اِن طاقتوں کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت موجود ہیں۔ ’وہ ہمارے ملک کی اقتصادیات کو برباد کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کے در پے ہیں جس کی اجازت ہم نہیں دیں گے۔‘ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ صدرِ پاکستان نے تو بھارت کو ٹھوس شواہد یا معلومات کی بنیاد پر تحقیقات میں مدد کی بھی پیشکش کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کا عمل مختلف معاملہ ہے جو کہ پاکستان اور بھارت کے علاوہ خطے کے مفاد میں بھی ہے۔ ان کے بقول وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک اور خطے کے مفاد میں بات چیت کے عمل کو لازمی طور پر آگے بڑھانا چاہیے۔ پاکستان کا نام لیے بنا منموہن سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ دہشت گردی کی ترکیب، ترغیب اور اکسانے میں سرحد پار عناصر کا ہاتھ ہے۔ اس بارے میں پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایسے تمام الزامات کو پہلے ہی مسترد کرچکا ہے کیونکہ یہ غیر مصدقہ ہیں۔ |