BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 July, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان ہی کا نام کیوں آتا ہے؟

ممبئی
دھماکوں کے بعد کڑی نگرانی کی جا رہی ہے
انیس سو ترانوے میں بمبئی میں دھماکوں کے مبینہ ملزمان داؤد ابراہیم اینڈ کمپنی کی پشت پناہی کے الزمات آج تک انڈیا کی حکومت پاکستان پر لگاتی ہے اور پاکستان سب کی تردیدیں کرتا ہے۔ تب بھی صحافیوں سمیت بہت سے لوگ یہ دعوے کرتے تھے کہ کراچی میں ڈیفینس سوسائٹی میں کلفٹن پل کے اس پار اور جنوبی کراچی کے اور حصوں میں بمبئی دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث بتا‎ئے جانے والے ’بھائی لوگ‘ ہیں اور کس کے زیر سایہ ہیں۔

کراچي میں اور نہیں تو بہت سے میمن بچوں ’میں یہ افواہیں گشت کررہی ہوتی تھیں کہ وہاں ’فلانے‘ کہ ’ڈھمکانے‘ بھائی کی حفاظت کے لیئے مبینہ طور تب پاکستانی فوج کے کمانڈوز سول کپڑوں میں مامور ہیں۔ یہ تمام باتیں کراچي میں ایک کھلا لیکن ’قومی راز‘ تصور کی جاتی تھیں اور اب بھی ہوں گی۔

تب مرکزی اور جنوبی کراچي کے کاروباری حلقوں اور برادریوں میں ایسے نامی گرامی مہمانوں کے بارے میں عجیب اور غریب لیکن چونکا دینے والی افواہ نما کہانیاں گردش میں تھیں جن میں ان خانوادوں میں ایک نام توفیق بھائی جالیہ والا کا بھی تھا جس کا بظاہر تعلق ’ہری پگڑی والوں‘ سے بتایا جاتا تھا اور جو بعد میں پر اسرار طور پر سعودی عرب میں عمرہ یا شاید حج کے موقع پر ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سیٹھ جالیہ والا بھی مبینہ طور ’ممبئي کے بھائی لوگوں‘ کے بہت ہی قریب بتا‎ئے جاتے تھے جنکے چرچے دبئي سے کراچی تک تھے اور اب بھی شاید ہونگے۔

ستمبر دو ہزار ایک میں میرے تب کے مادر جریدے ماہنامہ ’نیوز لائين‘ کراچي نے داؤد ابراہیم سمیت بھائی لوگوں کی کراچی کے شب و روز پر اور خاص طور شبینوں پر ایک کور اسٹوری شائع کی تھی جس سے کافی تہلکہ مچنا تھا لیکن بدقسمتی سے ستمبر الیون کی دہشت گردی کا بڑا واقعہ ہوگیا اور میڈیا میں داؤد ابراہیم اور دیگر ’بھائی لوگوں‘ کے شب و روز کی کہانیاں گیارہ ستمبر کی دہشت گردی کی خبروں میں دب گئیں ورنہ ’نیوزلائن‘ کی اس کہانی کا چرچا بقول شخصے، زبان زدِ عام ہو جاتا۔

’بھائی لوگوں‘ کی کہانی دب گئی
 ستمبر دو ہزار ایک میں پاکستان کے ماہنامہ ’نیوز لائين‘ کراچي نے داؤد ابراہیم سمیت بھائی لوگوں کی کراچی کے شب و روز پر اور خاص طور شبینوں پر ایک کور اسٹوری شائع کی تھی جس سے کافی تہلکہ مچنا تھا لیکن بدقسمتی سے ستمبر الیون کی دہشت گردی کا بڑا واقعہ ہوگیا اور میڈیا میں داؤد ابراہیم اور دیگر ’بھائی لوگوں‘ کی کہانی گیارہ ستمبر کی دہشت گردی کی کہانیوں میں دب گئیں

یہ اور بات ہے کہ ’حساس ادارے‘ (ظاہر ہے کہ ممبئي کے بھائی لوگوں پر کچھ خاص ہی حساس لگتے تھے) ’نیوز لائن‘ کی اس کور کہانی کے لکھنے والے صحافی کو’اٹھاکر‘ لے گئے تھے۔

کچھ عرصہ قبل امریکی محمکمۂ خزانہ نے بھی داؤد ابراہیم کے مبینہ طور پاکستانی شناختی کارڈ، ایڈریسوں اور جعلی پاسپورٹوں کے کوائف و تفاصیل جاری کی تھیں جن میں ان کی جائے پیدائش ایک جگہ ’نزد مزار عبداللہ شاہ غازی کلفٹن کراچی‘ اور رہائش کے پتے ڈیفنس کراچي درج تھے۔

پاکستانی حکومت اس کی بھی سختی سے تردید کرتی آئی ہے قطع نظر اس کے کہ کراچی کے بہت سے لوگ ’بھائی لوگوں‘ کی ایسی ’شناختوں‘ کے بارے میں گلیوں میں بہت سی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔

ممبئی کے لیئےایک بار اس شہر کے جمے پلے سلمان رشدی نے لکھا تھا کہ یہ نیویارک کی بغیر ایڈٹ شدہ یا پھر سے تحریر کردہ کاپی ہے۔

اب یہ گیارہ جولائي کو سال بیانوے کی طرح ممبئي میں بم کے دھماکوں کا ایک اور بڑا سانحہ پیش آیا ہے اور جس کے مبینہ ذمہ داران کے نام ایک دفعہ پھر ڈائریکٹ پاکستان کے نہ سہی مبینہ طور پاکستان کی پروردہ کہی جانے والی انتہا پسند اور جہادی تنظیموں کی طرف جاتے ہیں۔

انہی دنوں میں واشنگٹن کا دورہ کرنے والے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری (مجھے تو اس میں یقیں نہیں لیکن اگر کوئي حیات بعد الممات چيز ہے تو میاں محمود علی قصوری اپنی تربت میں ضرور بیچینی سے کروٹیں بدلتے ہونگے) نے تو مبینہ طور ممبئی دھماکوں کا تعلق کشمیر سے جوڑ ہی دیا جس کی بعد میں پاکستانی فارن آفس نے تردید کی۔

ایک بار پھر
 اب یہ گیارہ جولائي کو سال بیانوے کی طرح ممبئي میں بم کے دھماکوں کا ایک اور بڑا سانحہ پیش آیا ہے اور جس کے مبینہ ذمہ داران کے نام ایک دفعہ پھر ڈائریکٹ پاکستان کے نہ سہی مبینہ طور پاکستان کی پروردہ انتہا پسند اور جہادی تنظیموں کی طرف ضرور جاتے ہیں

ممبئي کے دھماکوں کی خبر اپنے صحفہ اول پر شائع کرنے والے اخبار لاس اینجلس ٹائیمز کی ایک سرخی تھی ’دھماکوں کی ذمہ داری کشمیر میں سرگرم مسلم انتہا پسند گروپ پر‘۔

جب کہ کل بی بی سی اردو کی نشریات میں انیس سو بیانوے کے ممبئي دھماکوں پر تحقیقی کتاب لکھنے والے ہندوستانی صحافی حسین زیدی نے فوراً ہی تازہ دھماکوں کے پچھے ممکنہ ہاتھ جہادی تنظیم ’لشکر طیبہ‘ کا دیکھ لیا اور بھی بہت سے آزاد رائے رکھنے والے حلقے اس بڑی واردات کے پیچھے نام ’لشکر طیبہ‘ کا ہی لے رہے ہیں۔ بالکل ایسے جیسے انیس سو اٹھاسی میں پاکستان کے حیدرآباد سندھ میں ایک اسی قسم کے ’بلیک فرائيڈے‘ جیسی واردات کے دوران منٹوں کے اندر جامشورو اور قاسم آباد کی سندھی آبادیوں میں بہت سے لوگوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ تیس ستمبر کی دہشت گردی کے پیچھے کونسی تنظیم یا کون لوگ تھے۔

مانا کہ کشمیر میں ہندستانی حکومت نے انسانی حقوق اور انسانیت کی کھٹیا کھڑی کرلی ہے لیکن جینوئن جنگ آزادی، انسانی حقوق اور دہشت گردی میں ایک واضح فرق ہے۔ آج نہیں تو کل بر صغيیر میں بھی لوگ ماننے لگیں گے کہ یہاں آزادی و انصاف کے تمام راستے صرف اور صرف اہنسا کے راستوں سے ہی گذر کر جاتے ہیں۔

آخر کیا سبب ہے کہ دس ارب سے بھی زائد نفوس کی دنیا میں ممبئي جیسی وارداتوں میں بہت سے لوگ اور میڈیا کا ایک بڑا حصہ پاکستان یا پاکستان کی پروردہ جہادی تنظیموں کا نام لیتا ہے۔ چاہے وہ دہلی میں کچھ عرصہ قبل پارلیمان عمارت پر حملہ ہو یا پہلے اور اب ہونے والے ممبئي دھماکے۔ یہ تنظیمں پاکستان میں بنظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں سے زیادہ طاقتور تھیں۔

دھماکے حسد کی وجہ سے ہیں
 ریاست آندھرا پردیش میں قرضوں کے مارے کسان خودکشیاں کر رہے ہیں۔ یہی ہندوستان ہے اور ’یہ ہے ممبئي میری جان‘ جہاں کے تازہ دھماکوں کے بارے میں کل کے ’نیویارک ٹائمز‘ میں لکھا تھا کہ یہ دھماکے انڈیا کی خوشحالی سے حسد کی وجہ سے ہیں

گذشتہ مہینے ’ٹائم میگزین‘ اخبار ’یو ایس اے ٹو ڈے‘ اور ’فارن پالیسی جرنل‘ سمیت کئی موقر امریکی اخبارات اور جریدوں میں کور اسٹوریاں اور خبریں ہندوستان کی حالیہ اقتصادی ترقی کے بارے میں شائع ہوئی ہیں، قطع نظر اس کے کہ اس کی ریاست آندھرا پردیش میں قرضوں کے مارے کسان خودکشیاں کر رہے ہیں۔ یہی ہندوستان ہے اور ’یہ ہے ممبئي میری جان‘ جہاں کے تازہ دھماکوں کے بارے میں کل کے ’نیویارک ٹائمز‘ میں لکھا تھا کہ یہ دھماکے انڈیا کی خوشحالی سے حسد کی وجہ سے ہیں۔
پاکستان میں صحافت
سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنا: حسن مجتبٰی کا کالم
کاروکاریکوئی فرق نہیں پڑتا
’وڈیرہ کہیں کا ہوفرق نہیں پڑتا‘: حسن مجتبیٰ
دیواروں کے کان
حسن مجتبیٰ کا مکتوب امریکہ
افریقی مصنف بینسنآ جاؤ افریقہ
شرعی نظام سے وال مارٹ تک، حسن مجتبیٰ کا کالم
حامد کرزئیمچھیروں کی گالیاں
پاک افغان بیان بازی پر حسن مجتبیٰ کا کالم
اسی بارے میں
موساوی، جیوری اور خدا
05 May, 2006 | قلم اور کالم
’وعدوں کے جفادار یہ سیاستدان‘
25 April, 2006 | قلم اور کالم
نیپال جہموریت اور پاکستان
21 April, 2006 | قلم اور کالم
عیدمیلاد النبی:’وہ دن اور تھے‘
14 April, 2006 | قلم اور کالم
عجیب مانوس اجنبی تھا۔۔۔۔
26 January, 2006 | قلم اور کالم
’بلوچستان میں قربانی‘
11 January, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد