BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 May, 2006, 08:00 GMT 13:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک سوڈانی پناہ گزین کی کہانی

افریقی رائٹر
سوڈان میں نیا صدر آیا۔موسیقی بند ہوئی اور صرف فوجی نغمے بجتے تھے:افریقی رائٹر
وہ واقعی ایک رائٹر کی طرح بولتا ہےاور ایک شاعر کی طرح۔اس نے کہا’ آدھی رات کے پیٹ میں ہم صحرا کے بیچ میں تھے۔وہاں کوئی روڈ نہیں تھا۔وہاں روڈ بس انسانی قدموں کے نشانات تھے‘۔

یا پھر، اس نے کہا ’ گاؤں میں لوگ دنوں سے اقوام متحدہ کا انتظار کر رہے تھے۔ سب کی نظریں آسمان کی طرف تھیں- وہاں پہلا جہاز نمودار ہوا لیکن اس نے بم برسائے۔یعنی اقوام متحدہ کے بجائے بم آئے۔اقوام متحدہ آئی ضرور لیکن ذرا دیر سے‘۔

اسطرح کے الفاظ سوڈان کے بیس سالہ بینسن ڈینگ کے ہیں جو ان ہزاروں سوڈانی بچوں میں سے ایک ہے جنہوں نے سوڈان میں خانہ جنگی اور نسلی قتل عام میں اپنے ماں باپ اور گھر گھاٹ گنواتے اور بھاگتے ہوئے ایک آگ اور خون کا دریا پار کیا اور اب جنہیں ’سوڈان کے گمشدہ لڑکے‘ کہا جاتا ہے-

ان بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔اور ان میں سے کوئی ساڑھے چھ ہزار کے قریب بچے امریکہ پہنچے توان میں بینسن بھی شامل تھا۔بینسن ڈینگ سمیت سوڈان کے سوگمشدہ بچے سان ڈیاگو پہنچے۔

سوڈان کا ضیاء الحق
صدر حسن الترابی کی حکومت نے سوڈان میں اسلامی قانون نافذ کیا جسے ’شریعہ‘ کہا گیا۔ ’شریعہ‘ کو غیر مسلموں کیخلاف استعمال کیا۔ پھر جنگ چھڑ گئی۔
ڈینگ بینسن
بینیسن اور اسکے دو کزنز جنہوں نے اسکے ساتھ مل کر ایسا سفر کیا تھا اپنی آپ بتیوں پر ایک کتاب لکھی ہے جسکا نام ہے ’دے پورڈ فائر آن اس‘ یا ’انہوں نے ھم پر آگ برسائی۔

منگل کی شام مقامی تھیٹر میں اس کتاب پر اور مصنف کی زندگی پر ایک بات چیت تھی جسکا اہتمام لامیسا شہر کی سان ڈیاگو کاؤنٹی پبلک لائيبریری نے کیا تھا-

میں سوچ رہا تھا جغرافیہ اور تاریخ کا بہت بڑا فرق ہوتے ہوئے بھی سوڈان اور پاکستان میں کتنی چیزوں میں مماثلت ہے-

بینسن فی البدیہ اور کتاب سے باہر اپنی یادداشتوں پر مبنی اپنے مشرقی افریقی لہجے والی شستہ انگریزی میں باتیں کررہا تھا- وہ کہہ رہا تھا ’ سوڈان میں نیا صدر آیا۔ موسیقی بند ہوئی اور صرف فوجی نغمے بجتے تھے‘۔

نئی حکومت نے اسلامی قانون نافذ کیا جسے ’شریعہ‘ کہا گیا۔ ’شریعہ‘ کو غیر مسلموں کیخلاف استعمال کیا۔ پھر جنگ چھڑ گئی۔

بینسن ڈینگ
بینسن ڈینگ سوڈان کو بہت مس کرتے ہیں

میرے گاؤں کے لوگ کہتے تھے جنگ ہمیں کیا کہے گی یہ تو شہر میں ہو رہی ہے۔ہمارا گاؤں چھوٹا سا تھا۔ ہم اقلیتی عیسائی عقیدے والے ڈینگ قبیلے کے تھے۔ایک دن آسمان سے آگ برسی۔ اکثریتی علاقے سے بندوقوں والےعرب آئے اور کرسچیئن اور کالے لوگوں کا قتل عام شروع کیا-‘ مجھے سوڈان کا ضیاء الحق، صدر حسن الترابی یاد آیا۔

ہر طرف لوگ مررہے تھے۔ جو بچ گے وہ سر پٹ بھاگے۔کسی نے کہا ’دوسرے ملک چلے جاؤ جسکا نام ایتھیوپیا ہے۔‘ بینسن یوں بتا رہا تھا جیسے وہ اب بھی سات سال کا بچہ ہے اور جنوبی سوڈان میں اپنے گاؤں میں تھا-

’میں نے سوچا دنیا جنگ پر ختم نہیں ہوتی۔میں گاؤں سے نکل پڑا۔لق دق صحرا لیکر۔ پھر اس نے کہا ’ہر طرف لوگ مر رہے تھے۔ سانپوں کے ڈسنے سے، بھوک سے اور پیاس سے لوگ مر رہے تھے‘۔

لوگ اب مہاجر تھے۔ ایک لامکان سے دوسرے لا مکان کی طرف سفر پر۔بینسن نے اپنی اسی کتاب میں لکھا ہے 'ریفیوجی زندگی انسان کو جانوروں کے کہا جانے کا نام ہے‘۔

آگے ایک دریا تھا پھر شیر آیا۔اگرچہ یہاں یہ ایک ’جنگل کی کی کہانی لگتی ہے لیکن یہ ایک جنگ کی کہانی ہی ہے۔ بینسن نے کہا ’ اس سے پہلے کہ شیر ہم پر حملہ کرتا اسے سپاہیوں نے شوٹ کیا‘۔

ہمیں بھاگنا تھا جو بچے اور بچیاں انہیں ہاتھ لگے انہیں شمال کی طرف غلام بنا کر لے جایا گیا تھا۔

ہم ایتیوپیا پہنچ گئے لیکن ہمیں ایتھیوپیا سے نکالا گیا ہم پھر سوڈان واپس آ گئے۔گاؤں میں اقوام متحدہ کے آنے کا انتظار کرتے رہے۔ آسمان کی طرف دیکھتے رہے۔ ایک طیارہ آیا۔ لیکن اس نے بم برسائے بہت سی گائيں اور آدمی ہلاک ہوئے-

آخر کار اقوام متحدہ والے آئے اور ہمیں کینیا لے گۓ۔ ہم نے تین سال کینیا کے مہاجر کیمپوں میں گزارے-

بینسن ان ایک سو بچوں میں شامل ہیں جو امریکہ میں سان ڈیاگو آئے- وہ ایک تنظیم انٹر نیشنل ریسکیو کمیٹی کی مدد سے یہاں رہنے لگے۔

تنظیم انٹر نیشنل ریسکیو کمیٹی یا آئی آر سی دنیا بھر کے ممالک میں جنگ، جبر اور قدرتی آفات سے آئے ہوئے لوگوں کی محفوظ ملکوں میں منتقلی اور بحالی میں مدد کرتی ہے۔ آئی آر سی پاکستان میں بھی سرگرم ہے اور اس نے گزشتہ سال اکتوبر میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کی مدد اور بحال کاری میں بھی قابل ذکر خدمات سر انجام دی ہیں۔

یہ تنظیم انیس سو تینتیس میں آئین سٹائين نے ہٹلر کے مخالفوں اور اسکی فسطائيت کے شکار لوگوں کے لیے قائم کی تھی۔

دو ہزار ایک میں امریکی حکومت نے سوڈان سے تین ہزار ایسے گمشدہ بچوں کو اپنے ریفیوجی پروگرام کے تحت امریکہ میں قبول کیا تھا-

کتاب کی مشترکہ مصنف سے زیادہ اسکی ایڈیٹر بینسن ڈینگ کے متعلق بتا رہی تھیں کہ وہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ میں پہنچا اوراس نے ٹوئين ٹاورز کو جلتے اور گرتے دیکھا-

بینسن ڈینگ کی کتاب کی ایڈیٹر کے مطابق گیارہ ستمبر کے بعد امریکی حکومت کے بہت سے پروگراموں کے بجٹ میں لائی ہوئی کٹوتیوں کی وجہ سے یہ ریفیوجی پروگرام بھی بند کردیا گیا-

بینسن ڈینگ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایک سوال پر بتایا کہ ریفیوجی کیمپ میں رہائش کے دوران اس نے سوچا تھا کہ اس کے پاس ایک کہانی ہے جسے لکھنا چاہیئے۔

’جب امریکہ آیا تو میرے دو کزنز کیساتھ اس خیال کو اور تقویت ملی کہ مجھے کتاب لکھنی چاہیئے کیونکہ امریکہ میں لوگ ایسی کھانی پڑھیں گے-‘

سامعین میں سے کچھ نےبینسن سے تجسس سے پوچھا اسے پہلی بار ’وال مارٹ' سٹور کیسے لگا‘۔

آپ کو وال مارٹ کیسا لگا؟
پہلی بار جب میں وال مارٹ میں داخل ہوا تو مجھے لگا جیسے میں کسی بادشاہ کے محل میں آگیا ہوں۔ لیکن اس کے مال سے بھرے آئيلز کے بیچ بھول بھلیوں سے مجھے ڈر لگا کہیں گم نہ ہوجاؤں‘
افریقی مصنف سے سوال
اس نے کہا’ پہلی بار جب میں وال مارٹ میں داخل ہوا تو مجھے لگا جیسے میں کسی بادشاہ کے محل میں آگیا ہوں۔ لیکن اس کے مال سے بھرے آئيلز کے بیچ بھول بھلیوں سے مجھے ڈر لگا کہیں گم نہ ہوجاؤں‘۔

اس سوال پر کہ کیا وہ سوڈان کو اب بھی مس کرتا ہے تو بینسن ڈینگ نے کہا ’ضرور مس کرتا ہوں۔ وہاں اپنی بہنوں، بھائیوں کو اور گائیں کو اور گاؤں کو‘

پھر اس نے اپنے ہاتھوں اور انگلیوں کومنہ سے لگا کر سانس کھینچ کر بجانے والے ساز کے انداز میں موسیقی کی وہ آواز نکالی جو چرواہے اس کے افریقی گاؤں میں نکالا کرتے تھے-

لیکن نثر میں بھی نظم جیسی باتیں کرنے والے افریقی لکھاری اور ایک کتاب کے مصنف اس ریفیوجی لڑکے کے پاس ایک سچ مچ کا دو تاروں والا ساز بھی تھا جو اس نے اس تقریب میں بجایا۔

یہ افریقی ساز اس نے خود یہیں امریکہ میں بنایا ہے- بس ایلومینیم کا ایک خالی پیالہ جس کے منہ پر اس نے کسی ڈھول کی طرح بکری کی کہال چڑہائي ہوئی تھی اور مچھلی پکڑنے کی دو تاروں سے دو تارہ بنایا تھا- مجھ جیسے ناسٹیلجیا کے مارے ہو‎ئے شخص کو سائيں ظہور یاد آگیا-

نیپالنیپال اور پاکستان
’پاکستانیوں کے دل بھی ضرور دھڑکتے ہونگے‘
بینظیر بھٹو اور نواز شریف ’وعدوں کے جفادار‘
’چارٹر آف ڈیمو کریسی‘ کے جنم پر حسن مجتبیٰ
زکریا موساویایک یادگار مقدمہ
موساوی مقدمے پر حسن مجتبی کا کالم
بندوقاحمدی ڈاکٹر کا قتل
احمدی ڈاکٹر کے قتل پر امریکہ میں تشویش
جہازمکتوبِ امریکہ
ائرپورٹ نہ ہوئے، پير پگارو کی درگاہ ہوئی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد