دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دنوں پاکستان اور اسکی کرسي اقتدار پر براجمان جنرل پرویز مشرف پاکستان میں دلچسپی رکھنے والے دیسی اور بدیسی باخبر اور میرے جیسے بے خبر حلقوں میں بحث کا موضوع بنے رہے۔ ان خبروں میں پرویز مشرف اور موجودہ امریکی انتظامیہ کے درمیاں مبینہ طور ہوتے ہوئے دگرگوں تعلقات کا بھی ذکر رہا۔ یعنی امریکی انتظامیہ اور مشرف نہ ہوئے سندھ کے وزیر اعلی ارباب رحیم اور ایم کیو ايم ہوئے۔ کہتے ہیں ’دیواروں کو بھی کان ہوتے ہیں‘۔ یہ تب مجھے یاد آیا جب واشنگٹن کے ایک بہت پرانے تھنک ٹینک بروکنگس انسٹیٹیوٹ کے ایک ’آف دی ریکارڈ‘ پروگرام میں مہمان اور مقرر پاکستان کے مشہور صحافی و مدیر نجم سیٹھی تھے۔ بروکنگس انسٹیٹیوٹ واشنگٹن میں امریکی پالیسی سازوں کیلیے رہنمائی اور تجزیے کرنے کا ایک بہت پرانا اداراہ ہے اور اب اس کے کرتا دھرتا پروفیسر اسٹیفن کوہن ہیں۔ اسٹیفن کوہن پاکستان اور انڈیا کی افواج پر اپنی کتابوں کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ کبھی اس بروکنگس انسٹیٹیوٹ میں جنرل جہانگیر کرامت بھی وظیفہ لیا کرتے تھے یعنی اسکے سینئر فیلو تھے۔ ’غالب وظیفہ خوار ہے دے شاہ کو دعا‘۔ انہوں نے کہا کہ نجم نے اپنے امریکی سامعین سے جو امریکی امور کی کوئی نہ کوئی بڑی توپ تھے کہا کہ وہ جو بھی صدر مشرف پر تنقید کریں وہ سرعام نہ کریں۔‘ نجم سیٹھی کے بارے میں کیا کہوں انکے بارے میں ایک امریکی صحافی نے پاکستان پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے متعلق انکے پیروں کے پاس بیٹھ کر ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ’بابے بڑے پہنچے ہوئے ہیں‘ ظفریاب کے بارے میں گوالمنڈی کا ایک لڑکا کہتا تھا۔ نجم سیٹھی اور جگنو محسن اس بار امریکہ آنے سے پہلے لندن سے ہوتے ہوئے آئے تھے جہاں انہوں نے نواز شریف سے چار گھنٹے تک طویل ملاقات کی۔ خبریں یہ ہیں کہ نواز شریف نے ان سے (نجم سیٹھی سے) اپنے دور حکومت میں کیے گئے سلوک کی بھی معاقی مانگی۔ تاریخ نے توبہ کے دوازے کسی پہ بھی کبھی بند نہیں کیے۔ پاکستان میں کہتے ہیں کہ انتخابات اگرچہ آج سے اٹھارہ مہینے دور ہیں لیکن ایک طرح سے پاکستان میں سن دو ہزار سات میں چناؤ کی سیٹی بج چکی ہے۔ جیسا کہ ہر فوجی حکمران کو کم از کم اپنےاقتدار کیلیے دس سے گیارہ برس چاہیے ہوتے ہیں۔اور ان تمام طویل سالوں میں پاکستان کے عوام تو بس مصرعہ غالب بنے ہوتے ہیں ’آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک‘۔ تو کہا یہ جارہا ہے کہ مشرف سرکار دو ہزار سات سے شروع ہونیوالے مزید پانچ سال کے لیے خود کو عہدہِ صدارت پر چنوانا چاہتے ہیں۔ ’آئندہ انتخابات میں مشرف کے بڑے اتحادی جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) اور متحدہ قومی موومنٹ والے ہونگے‘، لگتی تو یہ تجریدی سی بات ہے لیکن نجم سیٹھی اور کچھ اور پاکستانی سینئر سیاسی تجزیہ نگارتو یہی کہہ رہے ہیں۔ امریکی سرکاری ریڈیو وائس آف امریکہ کے ایک پروگرام میں مدعو پاکستان پر سیاسی، فوجی اور اقتصادی ماہرین اپنے اخذ کیے ہوئے اس نتیجے پر متفق تھے کہ صدر مشرف کےلیے واپسی کا نہ کوئی راستہ فی ا لوقت ہے اور نہ ہی انکی پیدا کی ہوئي صورتحال سے باہر نکلنے کےلیے انکے پاس کوئی ایگزٹ پلان نظر آ رہا ہے۔ ’آنے کےلیئے تو انکے پاس ایک سو ایک بریگیڈ تھی لیکن اب وہاں سے واپس جانے کیلیے کوئی راستہ نہیں ہے‘، نجم سیٹھی اس ریڈیو پروگرام میں کہہ رہے تھے۔ ’ہمارے اور مشرف کے درمیاں تعلقات میں کبھی کبھی جھول بھی رہے ہوتے ہیں لیکن ہم انہیں اب بھی پسند کرتے ہیں کیونکہ امریکہ کے لیے وہ بہت کچھ کر رہے ہیں‘، مجھے ایک باخبر امریکی نےبتایا۔ لیکن پاکستانی مبصروں نے آئندہ اٹھارہ مہینے پاکستان اور جنرل مشرف اور کیلیے اہم بتائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں امریکہ اور یورپی یونین سمیت بہت سے اکابرین عالم کی نظریں پاکستان کے دو ہزار سات کے انتخابات پر ہیں اور وہ اس بار سرکاری دھاندلیاں کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ بہت ساروں نے میثاق جمہوریت کو بھی بہت ہی سنجیدہ لیا ہوا ہے۔ مبصر کہتے ہیں کہ اس میثاق نے باہر کے ممالک کو یہ سوچ دی ہے کہ پاکستان میں سیاستدان فوج سے بہتر طریقے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||