تفتیش، مدد کے لیئےتیار ہیں:مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے ممبئی میں منگل کو ریلوں پر بم حملوں کی تفتیش میں مدد کی پیش کش کی ہے۔ پاکستان ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں صدر مشرف نے کہا کہ ’میں وزیر اعظم من موہن سنگھ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان حکومت اور میں خود ہر طرح کی تفتیش میں ان کے ساتھ ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھماکے جس کسی نے بھی کیئے ہیں اسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔ جنرل مشرف عالمی رہنماؤں میں سب سے پہلے رہنما تھے جنہوں نے انڈیا میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی تھی۔ یہ دھماکے پندرہ منٹ کے وقفے کے اندر سات مختلف ٹرینوں پر کیئے گئے تھے۔ ممبئ سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ یہ شبہ متواتر موجود ہے کہ کشمیر کے لڑنے والے پاکستان میں قائم ایک شدت پسند گروپ اور ایک بھارتی گروپ جو کشمیر میں اسلامی حکومت کا خواہاں ہے ان حملوں میں ملوث تھا۔ ممبئی میں حملوں سے متاثر ہونے والوں کی حمایت میں ہزاروں افراد نے جلوس نکالا جس میں فلم ایکٹروں نے بھی حصہ لیا۔ جلوس کے شرکاء میں شبانہ اعظمی، انیل کپور، ہیما مالینی اور دیا مرزا شامل تھے۔ | اسی بارے میں ’دھماکوں کو کشمیر سے نہیں جوڑا‘12 July, 2006 | پاکستان مشرف کارروائی کریں: انڈیا12 July, 2006 | انڈیا ہمیں کوئی جھکا نہیں سکتا: منموہن12 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: کراچی میں الرٹ12 July, 2006 | پاکستان دھماکوں پر پاکستان کی مذمت 11 July, 2006 | پاکستان ’بم حملے نفرت پھیلانے کی بزدلانہ کوشش ہیں‘ 11 July, 2006 | انڈیا دھماکوں کی بین الاقوامی مذمت12 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||