BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 July, 2006, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دھماکوں کو کشمیر سے نہیں جوڑا‘
قصوری
’ہمیں اپنے باہمی مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے‘
وزیر خارجہ خورشید قصوری نے ممبئی دھماکوں کو کشمیر سے منسلک کرنے سے متعلق بیان کی تردید کی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے ممبئی دھماکوں کی مذمت کی اور کہا کہ ممبئی ٹرین دھماکے دونوں ملکوں کے مابین امن کے عمل کے مخالفوں کی کارروائی ہے۔

مسٹر خورشید قصوری نے کہا کہ پاکستان امن کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے لیکن امن کے اس عمل کے مخالفین اس عمل کو آگے نہیں بڑھتا نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے انہیں مخالفین نے مظفرآباد سرینگر بس سروس کے آغاز کے موقع پر بھی بم دھماکے کرائے تھے۔

انڈیا نے پاکستانی وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری سے منسوب اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں مبینہ طور پر ممبئی دھماکوں کا تعلق پاکستان اور بھارت کے باہمی مسائل سے جوڑا گیا ہے۔

انڈیا کی وزارتِ امور خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ ہمیں اس بات سے بہت تکلیف پہنچی کہ پاکستانی وزیرِ خارجہ نے معصوم شہریوں کے خلاف ایک غیر انسانی اور وحشیانہ دہشت گردی کا تعلق پاکستان اور انڈیا کے غیر حل شدہ مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی ہے‘۔

وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری سے منسوب اس بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے باہمی مسائل کا فائدہ ان دونوں ممالک میں موجود منفی طاقتیں اٹھاتی ہیں اور میرے خیال میں ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ موجودہ بہتر حالات کا فائدہ اٹھائیں اور اپنے باہمی مسائل خصوصاً جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کر لیں‘۔

 اپنے انٹرویو میں خورشید قصوری نے ممبئی میں ہونے والے دھماکے کی پرزور مذمت کی تھی اور اسی انٹرویو میں رائٹرز نے ان سے کشمیر اور قیامِ امن کی کوششوں کے بارے میں بھی سوال کیا تھا اور وزیرِ خارجہ نے اپنے جوابات میں کہیں بھی ان دونوں معاملات کا تعلق جوڑنے کی کوشش نہیں کی
تسنیم اسلم، ترجمان دفترِ خارجہ

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ’ ہم دہشت گردی کے اس عمل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور یہ صحیح ہے کہ دہشت گردی دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور حکومتِ پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے‘۔

انڈین ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان ان نام نہاد مسائل کے حل کے بعد ہی سرحد پار دہشت گردی اور تشدد جیسے معاملات میں انڈیا سے تعاون کرنا چاہتا ہے‘۔

ترجمان نے اپنے بیان میں پاکستان پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اپنی سرزمین پر قائم دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کا قلع قمع کرے اور ان افراد اور گروہوں کے خلاف کارروائی کرے جو تشدد اور دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔

اس سے پہلے پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے وزیرِ خارجہ کے بیان اور اس پر انڈینِ ردعمل پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کی وزارتِ امور خارجہ کی جانب سے کیا جانے والا تبصرہ پاکستانی وزیرِ خارجہ کے انٹرویو کی غلط رپورٹنگ کا نتیجہ ہے۔

 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان ان نام نہاد مسائل کے حل کے بعد ہی سرحد پار دہشت گردی اور تشدد جیسے معاملات میں انڈیا سے تعاون کرنا چاہتا ہے
انڈین ترجمان

تسنیم اسلم نے کہا کہ ’اپنے انٹرویو میں خورشید قصوری نے ممبئی میں ہونے والے دھماکے کی پرزور مذمت کی تھی اور اسی انٹرویو میں رائٹرز نے ان سے کشمیر اور قیامِ امن کی کوششوں کے بارے میں بھی سوال کیا تھا اور وزیرِ خارجہ نے اپنے جوابات میں کہیں بھی ان دونوں معاملات کا تعلق جوڑنے کی کوشش نہیں کی‘۔

دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ممبئی میں ہونے والے دھماکے دہشتگردی تھے اور دہشت گردی کی ان کارروائیوں کا مسئلہ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد