’پتہ نہیں اب کہاں سے لاش آئی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ تمام ٹی وی چینلز کے سامنے اپنے گمشدہ بہنوئی سنیل بدوارکر کی تصویر دکھاتے ہیں۔ ’میں تین دنوں سے انہیں تلاش کر رہا ہوں کہیں نہیں ملے۔ان کے ساتھ ٹرین کے ڈبے میں جو دوست سفر کرتے تھے ان کی لاشیں مل چکی ہیں لیکن میرے بہنوئی پتہ نہیں کہاں ہیں ؟ کوئی تو ان کا پتہ دے‘۔ دلیپ پھوٹ پھوٹ کر روپڑے ۔ وہ گھر جانا نہیں چاہتے کیونکہ وہ اپنی بہن سے نظریں نہیں ملا سکتے۔’اس کی آنکھیں سوال کریں گی کہ میں اس کے شوہر کو ڈھونڈھ نہیں سکا‘۔ دلیپ کے ساتھ گمشدہ سنیل کا ڈرائیور عمران شیخ بھی ہے۔ ’سنیل میرے باس ہیں ملاڈ میں پاریکھ نگر میں رہتے ہیں۔ شیئر مارکیٹ میں کاروبار کرتے ہیں۔ روز گھر سے ملاڈ اسٹیشن تک وہ کار میں آتے ہیں پھر ٹرین پکڑ کر چرچ گیٹ جاتے ہیں ۔اس روز میں ملاڈ اسٹیشن پر ان کا منتظر تھا کہ خبر آئی ٹرین میں بم پھٹ گیا۔ وہ ہمیشہ اسی ٹرین سے سفر کرتے ہیں۔ ہم سب گھبرا گئے اور ان کی تلاش میں نکلے ۔منگل کی رات قیامت کی رات تھی کیونکہ ان کے تمام ساتھیوں کی لاشیں مل چکی تھیں لیکن میرے باس نہیں تھے ۔ ایک امید بندھی کہ شاید وہ زندہ ہیں۔ پھر ممبئی سینٹرل ریلوے سٹیشن سے فون آیا۔ میرے باس کا پرس مل گیا تھا جس میں ان کا کریڈٹ کارڈ بھی تھا‘۔
دلیپ نے بتایا جب سے ان کے بہنوئی کی گمشدگی کی اطلاع ملی ہے اس کی بہن سریکھا نے کچھ نہیں کھایا ہے اس کی ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ وہ اور عمران ہر چھوٹے بڑے ہسپتال نرسنگ ہوم ان ٹرین کی پٹریوں کے اطراف چکر لگاتے ہیں کہ کہیں سے کچھ خبر مل جائے۔ سائن ہسپتال کے مردہ خانے میں انہوں نے کئی لاوارث لاشیں دیکھیں لیکن ان میں سنیل نہیں تھے ۔لاشوں کا چہرہ بھی بری طرح بگڑ چکا ہے ۔کئی لاشوں کے تو سر بدن سے جدا ہو چکے ہیں ان کی بھیڑ میں اپنوں کو تلاش کرنا بہت ہی ہمت کا کام ہے۔ دلیپ روتے رہے لوگوں نے انہیں چائے دینی چاہی لیکن وہ کہتے ہیں ان کی بھوک پیاس مٹ چکی ہے ۔دلیپ جیسے ابھی کتنے ہی لوگ اور ہیں جنہیں انہیں اپنوں کی تلاش ہے ۔بم دھماکہ کے تین دن گزرنے کے بعد بھی بھوکے پیاسے ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ہم وہاں سے دوسری طرف بڑھے ۔ہسپتال میں اندر گئے۔ واپسی میں ایک جگہ بھیڑ دیکھی پہنچے تو دلیپ کو ایک بار پھر روتے ہوئے دیکھا۔ ڈرائیور عمران نے بتایا گمشدہ باس سنیل کی لاش مل گئی۔ لیکن کیسے ہمیں حیرت ہوئی؟ دلیپ کا الزام ہے کہ جب وہ مردہ خانہ گئے تھے تو وہاں ان کے بہنوئی کی لاش نہیں تھی۔ ’وہ وہاں ملتے تو پہچاننا مشکل نہیں تھا، پتہ نہیں کہاں سے اب لاش آئی ہے؟ ہسپتال والے مذاق کرتے ہیں۔ میرے بہنوئی کو پتہ نہیں کہاں ڈال دیا تھا اچانک مردہ گھر میں کس طرح آگئے۔ وہ زندہ رہے ہوں گے۔ شاید ابھی ان کی موت واقع ہوئی ہو۔ ہسپتال والوں نے لاپروائی کی ہے ۔اتنے دنوں سے ہم پاگلوں کی طرح بھٹک رہے تھے ہسپتال نے ہمیں اسی روز کیوں نہیں بتا دیا‘؟ دلیپ پریشانی میں سوالات کرتے چلے جارہے ہیں اور لوگ انہیں تسلی دینے میں مصروف ہیں۔ |
اسی بارے میں دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے13 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ’سیمی‘ کی مذمت 13 July, 2006 | انڈیا دھماکے بزدلانہ فطرت ہیں: عامر 13 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||