BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 December, 2005, 12:02 GMT 17:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش: دہشت گردی کی سزا موت
غازی پور میں بم دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکار جگہ کا معائنہ کر رہا ہے
بم دھماکوں کے لیے جماعت المجاہدین پر الزام لگایا جا رہا ہے
بنگلہ دیش کی حکومت دہشت گردی کے خلاف نیا قانون بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس کے تحت دہشت گردی کی سزا موت ہوگی۔

بنگلہ دیش کے ایک وزیر کے مطابق حکومت مہلک بم دھماکوں سے نمٹنے کی کوشش میں ہے جن میں اسلامی شدت پسند تنظیموں کے ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔

وزیر قانون محمد احمد نے کہا کہ ’موجودہ قوانین اس قسم کے تشدد سے نبرد آزما ہونے کے لیے ناکافی ہیں۔ ہمیں انسداد دہشت گردی کے ایک نئے قانون کی ضرورت ہے‘۔

اگست کے مہینے سے اب تک ان دھماکوں کے دوران تیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں زیادہ تر ججوں، وکلاء پولیس افسران اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سلسلے میں پولیس نے آٹھ سو سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ’جماعت المجاہدین‘ تنظیم سے ہے جو سخت گیر مذہبی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں تنظیم کی عسکری سرگرمیوں کے سربراہ عطا الرحمٰن سُنی بھی شامل ہیں جنہیں گزشتہ بدھ کو دارالحکومت ڈھاکہ سے گرفتار کیا گیا۔

وزیر قانون نے ایک بنگالی ٹی وی سٹیشن کو بتایا کہ ’ہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قانون لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں دہشت گردی پر اکسانے، حوصلہ افزائی کرنے، تربیت دینے اور اس مقصد کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے سمیت تمام اقدامات کا احاطہ کیا جائے گا۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا کو دس سال سے بڑھا کر سزائے موت میں تبدیل کر دیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے بنائی گئی خصوصی عدالتیں ان مقدمات کو تیزی سے نمٹائیں گی۔

اس دوران عیسائی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کرسمس کے دنوں میں دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر خصوصی حفاظتی اقدامات کریں گے۔

ان حالیہ دھماکوں میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن عیسائی مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ محتاط رہیں گے۔

اس سلسلے میں پادری بنجمن ڈی کوسٹا نے کہا کہ’چونکہ دہشت گرد مذہب کا نام استعمال کر رہے ہیں اس لیے ان کا نشانہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں کسی خطرے کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا‘۔

پولیسبنگلہ دیش میں چھاپہ
پچاس کلو بارود، ستائیس گرنیڈ، بم بنانے کا سامان
اسی بارے میں
بنگلہ دیش میں عام ہڑتال
24 November, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد