بنگلہ دیش: مفرور رہنما گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے سکیورٹی حکام نے سنیچر کو ایک اسلامی تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی (ایچ یو جے آئی) کے ایک مفرور رہنما مفتی عبدالحنان کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ دو ہزار تین میں اس وقت سے عبدالحنان کی تلاش میں تھی جب ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو قتل کرنے کی کوشش میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ایلیٹ اینٹی کرائم فورس- ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) کے ارکان نے ڈھاکہ میں ایک گھر پر سنیچر کی صبح چھاپہ مارکر مفتی عبدالحنان کو گرفتار کر لیا۔ ان پر سترہ اگست میں ہونے والے دھماکوں کا بھی شبہ ہے جب ملک بھر میں چارسو کے قریب بم ایک ہی وقت پھٹے تھے۔ آر اے بی کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عبدالحنان کے بارے میں تفتیش کریں گے کہ آیا سترہ اگست کے دھماکوں سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ مفتی حنان کو جولائی دوہزار میں ایک عوامی جلسے کے دوران ڈائس کے قریب دھماکہ خیز مواد پائے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس جلسے میں اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ شرکت کرنے والی تھیں تاہم مفتی حنان کو ضمانت مل گئی تھی اور اس کے بعد سے وہ مفرور تھے۔ دو ہزار تین میں ایک ٹریبونل کورٹ نے مفتی حنان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سترہ اگست کے دھماکوں کے بعد گزشتہ ماہ پولیس نے مفتی حنان، ان کے بھائی اور ہجی منسی انیس الزمان کے رہنما کو گرفتار کرنے کی کوششییں تیز کر دیں تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||