BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 October, 2005, 10:22 GMT 15:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش: مفرور رہنما گرفتار
دھماکے (فائل فوٹو)
اگست سترہ میں ملک بھر میں چار سو بم دھماکے ہوئے تھے
بنگلہ دیش کے سکیورٹی حکام نے سنیچر کو ایک اسلامی تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی (ایچ یو جے آئی) کے ایک مفرور رہنما مفتی عبدالحنان کو گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ دو ہزار تین میں اس وقت سے عبدالحنان کی تلاش میں تھی جب ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو قتل کرنے کی کوشش میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

ایلیٹ اینٹی کرائم فورس- ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) کے ارکان نے ڈھاکہ میں ایک گھر پر سنیچر کی صبح چھاپہ مارکر مفتی عبدالحنان کو گرفتار کر لیا۔

ان پر سترہ اگست میں ہونے والے دھماکوں کا بھی شبہ ہے جب ملک بھر میں چارسو کے قریب بم ایک ہی وقت پھٹے تھے۔

آر اے بی کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عبدالحنان کے بارے میں تفتیش کریں گے کہ آیا سترہ اگست کے دھماکوں سے ان کا کوئی تعلق ہے۔

مفتی حنان کو جولائی دوہزار میں ایک عوامی جلسے کے دوران ڈائس کے قریب دھماکہ خیز مواد پائے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس جلسے میں اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ شرکت کرنے والی تھیں تاہم مفتی حنان کو ضمانت مل گئی تھی اور اس کے بعد سے وہ مفرور تھے۔ دو ہزار تین میں ایک ٹریبونل کورٹ نے مفتی حنان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سترہ اگست کے دھماکوں کے بعد گزشتہ ماہ پولیس نے مفتی حنان، ان کے بھائی اور ہجی منسی انیس الزمان کے رہنما کو گرفتار کرنے کی کوششییں تیز کر دیں تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد