ڈھاکہ: شدت پسند رہنما گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے حالیہ خود کش حملوں میں ملوث ایک ممنوعہ اسلامی تنظیم کے عسکری شعبے کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ جماعت المجاہدین کے مشتبہ کمانڈر عطا الرحمٰن سنی کو بدھ کے روز ڈھاکہ میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسلحہ اور گولہ بارود کی ایک بڑی مقدار بھی پکڑی ہے۔ اس تنظیم پر اگست سے جاری کئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور اس پر پابندی عائد ہے۔ ان دھماکوں میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز چھاپہ مارنے والے ادارے ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘ کے لیفٹینینٹ کمانڈر محبوب الحق نے گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے افسروں نے شہر کے ایک تکنیکی تعلیمی ادارے کے کمرے کا محاصرہ کیا اور سنی کو اس کے ٹھکانے سے پکڑ لیا‘۔ سنی اس تنظیم کے مفرور روحانی رہنما عبد الرحمٰن کے بھائی ہیں۔ پولیس کے مطابق اس کارروائی کے دوران پکڑے جانے والے سامان میں پچاس کلو بارود، ستائیس گرنیڈ اور دوسرے اسلحہ کے علاوہ جہاد پر اکسانے والا مواد بھی شامل ہے۔
ریپڈ ایکشن بٹالین کے ایک اور ترجمان سکوارڈن لیڈر فضل نے بتایا کہ ’جماعت المجاہدین کے لوگوں نے اسلحہ اور گولہ بارود ذخیرہ کر رکھا تھا۔ اس سے بہت بڑی تباہی پھیل سکتی تھی جس سے ہزاروں لوگ ہلاک ہو جاتے‘۔ اس سال اگست سے شروع ہونے والے حملوں میں زیادہ تر ججوں، وکلاء، پولیس افسران اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس ضمن میں پولیس نے تقریباً آٹھ سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے زیادہ تر جماعت المجاہدین کے کارکن ہیں جو ملک میں سخت گیر مذہبی قوانین کے حامی ہیں۔ سنی اس تنظیم کے ایک اعلیٰ اور انتہائی اہم عہدہ دار ہیں۔ پولیس کے مطابق ان کی گرفتاری بہت بڑی کامیابی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس سے ان کے بھائی کی گرفتاری میں بھی مدد ملے گی۔ |
اسی بارے میں خود کش حملوں کے خلاف مظاہرے09 December, 2005 | آس پاس بنگلہ دیش میں عام ہڑتال24 November, 2005 | آس پاس بنگلہ دیش: کشتی ڈوبنے سے25 ہلاک08 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||