خود کش حملوں کے خلاف مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں میں ہونے والے خودکش بم حملوں کے خلاف آج بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا اہتمام بنگلہ دیش کے صف اوّل کے مذہبی رہنماؤں کی جانب سے کیا جا رہا ہے جنہوں نے ان خودکش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ گزشہ روز شمالی بنگلہ دیش میں ایک خود کش حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ گزشتہ ہفتے ہونے والے حملوں میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے علما پر ان حملوں کے خلاف مظاہرے کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے واقعات کے پیچھے جو تنظیمیں کام کر رہی ہیں وہ دنیا بھر میں اسلام کے بارے میں غلط تاثر پیدا کر رہی ہیں۔ گزشتہ روز ملک کے شمالی علاقے میں واقع نیتراکونا نامی قصبے میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد پولیس حکام نے کچھ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی ہے۔ گزشتہ ماہ غازی پور شہر کی ایک عدالت کے باہر لائبریری میں ایک طاقت ور بم کے پھٹنے سے سات افراد ہلاک اور تقریباً پحاس زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس حکام نے اس واقعے کو ملک کا پہلا خود کش حملہ قرار دیا تھا۔اسی روز چٹاگانگ میں ایک عدالت کے باہر ہونے والے بم حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ حکومت ان حملوں کا الزام ایک کلعدم انتہا پسند گروپ جماعت المجاہدین پر لگا رہی ہے۔ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش میں اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی30 November, 2005 | آس پاس بنگلہ دھماکے، پولیس آپریشن 30 November, 2005 | آس پاس بنگلہ دیش دھماکہ، بیس افراد زخمی01 December, 2005 | آس پاس بم دھماکہ: 5 ہلاک 20 زخمی08 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||