بنگلہ دھماکے، پولیس آپریشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی پولیس نے دھماکوں میں ملوث دہشت گردوں کی تلاش کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی پولیس کو شک ہے کہ بم حملوں کرنے والوں کا تعلق کالعدم تنظیم جماعت المجاہدین سے ہے منگل کو غازی پور میں ایک دھماکے میں مبینہ خود کش حملہ آور سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح چٹاگانگ میں ایک پولیس چوکی کے قریب ہونے والے دھماکے میں دو پولیس اہلکار اور ایک خود کش بمبار ہلاک ہوئے۔ کسی گروپ نے منگل کو ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن پولیس کو کالعدم تنظیم جماعت المجاہدین پر شک ہے۔ بنگلہ دیش میں تشدد کی حالیہ لہر میں ججوں، سیاستدانوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں ملک کےجنوب میں دو ججوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ کالعدم تنظیم جماعت المجاہدین ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے اور ملک کے جج انگریزی نظام کی نشانی تصور کیے جاتے ہیں۔حال ہی میں کئی ججوں اور وکلاء کو اس تحریک کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط ملتے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اس سے پہلے جتنے بھی دھماکے کیے گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی خود کش حملہ نہیں تھا لیکن پولیس کو شبہ ہےکہ غازی پور میں ہونے والے دھماکہ خود کش حملہ تھا۔ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ غازی پور میں ہونے والے دھماکہ خود کش حملہ نے کیا تو یہ بنگلہ دیش میں یہ پہلا خود کش حملہ ہو گا۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش بھر میں تین سو دھماکے 17 August, 2005 | آس پاس بنگلہ دیش میں دھماکے، دو ہلاک03 October, 2005 | آس پاس ’احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے‘12 March, 2005 | آس پاس چالیس لاکھ مسلمانوں کا اجتماع05 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||