چالیس لاکھ مسلمانوں کا اجتماع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں ہونے والا سالانہ مذہبی اجتماع آج ختم ہوگیا۔ اسے حج کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کا دوسرا بڑا اجتماع مانا جاتا ہے۔ تین روزہ بسوا اجتماع ہر سال ڈھاکہ سے باہر ٹونگی کے مقام پر منعقد ہوتا ہے۔ شرکاء نے مکے کی طرف ہاتھ اٹھا کر امن و سلامتی کی دعائیں مانگیں جبکہ علماء نے قران کی تلاوت و تفسیر کی۔ بی بی سی ڈھاکہ کے نامہ نگار ولی الرحمان کا کہنا ہے کہ دورانِ اجتماع سیاست پر بحث ومباحثہ کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی اور زیادہ تر تقاریر میں امنِ عالم پر بات کی گئی۔ یہ تقاریر بنگالی، اردو اور عربی میں کی گئیں۔ اجتماع کے دوران امن وعامہ برقرار رکھنے کے لیے تقریباً آٹھ ہزار پولیس اور پیرا ملٹری کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ دریائے تراگ کے کنارے ایک سو ساٹھ ایکڑ پر لگائے جانے والے بوری کے عارضی خیموں کے لیے خاص طور پر سیکیورٹی بڑھائی گئی تھی۔ اجتماع کا اختتام نماز پر ہوا جس میں بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء اور صدر ایاج الدین احمد نے بھی شرکت کی۔ نماز کے خطبے کے دوران ایک مذہبی عالم کا پیغام تھا کہ ’ہمیں قرآن کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنا اور مسلمانوں کو متحد کرنا ہوگا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||