BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 November, 2005, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی

ڈاکہ کے ایک ہسپتال کے باہر دھماکوں میں ہلاک یا زخمی ہو جانے والوں کے لواحقین
ڈھاکہ کے ایک ہسپتال کے باہر دھماکوں میں ہلاک یا زخمی ہو جانے والوں کے لواحقین
غازی پور کچہری میں وکلاء کی تباہ شدہ لائبریری میں داخل ہونے کا واحد طریقہ یہی تھا کہ اس شخص کی لاش پر سے گزرا جائے جو کہ پولیس کے مطابق اس تباہی کا ذمہ دار تھا۔

وہ خون کے ایک تالاب میں پڑا تھا اور اس کے جسم پر ایک چھوٹے سے کپڑے کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔وہ ایک چھوٹے قد اور نحیف جسم کا مالک شخص تھا، شدید دھوپ میں کام کرنے والے شخص کا جسم۔

اس کی لاش کو بانس کی بنی ہوئی چٹائی پر ڈال کر وہاں سے ہٹایاگیا لیکن اس سے پہلے وہاں پر جمع ہجوم کا ہر شخص اس کا معائنہ کر چکا تھا۔ ہر کوئی لاش دیکھنے کا اتنا مشتاق تھا کہ لاش کو وہاں سے ہٹانے کے لیے پولیس کو چیخنا چلانا پڑا۔

اگر اس دھماکے کے بارے میں پولیس کے شکوک سچ ثابت ہوتے ہیں تو اس شخص نے دہشتگردی کی تاریخ میں اپنی جگہ ضرور بنا لی ہے۔

جائے وقوع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس کے انسپکٹر جنرل عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جو ابتدائی ثبوت یہاں ملے ہیں ان سے تو یہی لگتا ہے کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔‘

اگر ان کی بات سچ ثابت ہوتی ہے تو یہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا پہلا خود کش حملہ ہوگا۔

غازی پور میں ہونے والا دھماکہ ان دو دھماکوں میں سے ایک تھا جو بیک وقت ایک ایسے وقت میں ہوئے جب لوگ اپنے دفتروں میں پہنچ رہے تھے۔ دوسرا دھماکہ ملک کے دوسرے بڑے شہر چٹاگانگ میں ہوا جہاں پر مبینہ بمبار نے ایک بم عدالت کے احاطے میں واقع پولیس چوکی پر پھاڑا۔

مجموعی طور پر ان دھماکوں میں غازی پور کے خود کش حملہ آور سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔

چٹاگانگ پولیس کے مطابق انہیں پولیس چوکی کے قریب ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط بھی ملا ہے جس میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر بنگلہ دیش میں اللہ کا بنایا ہوا قانون نافذ نہیں کیا جاتا تو اس قسم کے دھماکے جاری رہیں گے۔

بنگلہ دیش کی نوے فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ ملک کے قانونی نظام کی بنیاد انگریزی قانون یاانگلش پرسنل لاء ہے۔

بنگلہ دیش کی حکومت ملک میں بم دھماکوں کی حالیہ لہر کا ذمہ دار جماعت المجاہدین اور ’جاگرتو مسلم جنتا‘ کو ٹھہراتی ہے اور غازی پور اور چٹاگانگ کے دھماکوں کے سلسلہ میں بھی انہی دو تنظیموں کا نام لیا جا رہا ہے۔

دونوں تنظیموں پر اس سال فروری میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ تب سے چار سو ایسے افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن کے بارے میں شک تھا کہ وہ ان تنظیموں کے ممبر ہیں لیکن ان کے دونوں رہنما، عبدالرحمٰن اور
صدیق الا سلام المعروف بنگلہ بھائی، ابھی تک گرفتار نہیں کیے جا سکے۔

غازی پور کا دھماکہ شاید بنگلہ دیش کا پہلا خود کش حملہ تھا۔

ان دو تنظیموں کا بڑا نشانہ ملک کی عدالتیں اور ان سے منسلک افراد ہیں۔

نومبر کے وسط میں جھالاکتی کے مقام پر ایک کار دھماکے میں دو ججوں کو مار دیاگیا۔اکتوبر میں اس وقت تین افراد ہلاک ہوئے جب مبینہ طور اسلامی شدت پسندوں نے تین شہروں میں عدالتی عمارتوں کو نشانہ بنایا اور اس سے پہلے اگست میں ملک کے طول وعرض میں بیک وقت دھماکے ہوئے جن میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سال کے اوائل تک بنگلہ دیش کی حکومت کہتی رہی ہے کہ ان کے ہاں اسلامی شدت پسندی کا مسئلہ نہیں ہے۔ دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت چار جماعتوں کی مخلوط حکومت ہے اور ان میں سے دو جماعتیں اسلامی ہیں۔

حکومت ان دعووں کی بار بار نفی کرتی رہی ہے کہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں عسکریت پسند گروپوں کو پنا دیتی ہیں۔

حالیہ دو دھماکوں کے بعد پولیس کے انسپکٹر جنرل کا کہنا ہے ان کے محکمے کا اولین کام اب ان لوگوں کو پکڑنا ہے جو خود کش حملوں کا ارادہ یا صلاحیت رکھتے ہیں۔ عبدالقیوم پُرامید ہیں کہ وہ ایسے افراد کو حملہ کرنے سے پہلے پکڑنے میں کامیاب ہوں گے۔

غازی پور میں جائے دھماکہ پر کھڑے شہر کے ڈپٹی کمشنر فضل ربانی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال سب لوگوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔

’ ہمارے پاس اس قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نہ مہارت ہے اور نہ ہی وسائل ہیں۔ اس قسم کے حملوں کے سامنے تو نہایت ترقی یافتہ ممالک بے بس ہو جاتے ہیں۔ آپ نے ہمارا ملک دیکھا ہی ہے۔ ہم اس قسم کے حملوں کےمتحمل نہیں ہو سکتے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد