بنگلہ دیش دھماکے، آٹھ افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے جنوب مشرق میں دو بم دھماکوں میں کم از کم آّٹھ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہو گئے ہیں۔ چٹاگانگ میں ایک پولیس چوکی کے قریب ہونے والے دھماکے میں دو پولیس اہلکار اور ایک خود کش بمبار ہلاک ہوئے جبکہ غازی پور میں ایک عدالت کی لائبریری میں بم دھماکے میں تین افراد مارے گئے۔ دھماکوں میں کم سے کم چالیس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بنگلہ دیش میں تشدد کی حالیہ لہر میں ججوں، سیاستدانوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں ملک کےجنوب میں دو ججوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ چٹاگانگ میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ صبح نو بجے کے قریب دو افراد عدالت کے احاطے میں داخل ہوئے اور ان میں سے ایک نے خود کو بم سے اڑا دیا۔ اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پولیس افسر راہل امین نے بتایا کہ ’ جب دونوں افراد عدالت کے مرکزی احاطے میں پولیس چوکی پر پہنچے اور ان کی تلاشی لی جانے لگی تو ان میں سے ایک نے ایک بم اٹھا کر پھینکا اور جسم سے لگے دوسرے بم کو بھی پھاڑ دیا جس سے وہ خود اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔‘ اس کے ساتھ ہی دوسرے بمبار نے بھی اپنے جسم پر لگا ہوا بم چلا دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ تقریبا اسی وقت غازی پور میں ہونے والے ایک دوسرے واقعے میں عدالت کی لائبریری میں بم پھاڑا گیا۔ ابھی تک کسی نے ان حملوں کی ذمہ داری نہیں قبول کی ہے تاہم ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ولی الرحمان کا کہنا ہے کہ پولیس کو کالعدم قرار دی جانے والی ایک تنظیم جماعت المجاہدین پر شک ہے۔ حال ہی میں کئی ججوں اور وکلاء کو اس تحریک کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط ملتے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش پولیس کا کہنا ہے کہ ججوں اور وکلاء کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ ملک میں سیکولر قوانین کی علامت سمجھے جاتے ہیں جو کہ جماعت المجاہدین جیسے گروپوں کی نظر میں غیر اسلامی ہیں۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش بھر میں تین سو دھماکے 17 August, 2005 | آس پاس بنگلہ دیش میں دھماکے، دو ہلاک03 October, 2005 | آس پاس ’احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے‘12 March, 2005 | آس پاس چالیس لاکھ مسلمانوں کا اجتماع05 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||