بنگلہ دیش میں عام ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے علان پر ملک کے تمام بڑے شہروں میں عام ہڑتال ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کو تمام ٹرانسپورٹ، اسکول، دکانیں اور دفاتر بند رہے جبکہ دس مظاہرین پولیس کے ساتھ مقابلوں میں زخمی ہوئے۔ عوامی لیگ سمیت 14جماعتوں نے ہڑتال کا علان کیا تھا۔ انہوں نےمطالبہ کیا کہ حکومت استعفیٰ دے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت جہادی قوتوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت نے اس الزام کو سختی سے رد کیا ہے۔ وزیر اعظم خالدہ ضیا اور ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی 2001 کے انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کام یاب ہوئی تھی۔آ اگلے عام انتخابت 2007 میں متوقع ہیں۔ جمعرات کی ہڑتال سے قبل 14 جماعت حزب اختلاف کے اتحاد نے ڈھاکہ میں بڑا مظاہرہ کیا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ ڈھاکہ کے پولیس کمشنر منازر رحمان نے کہا کہ شہر کے مخصوص علاقوں میں نو ہزار فوجی سپاہی تعینات کیے گئے ہیں۔ حکومت نے اگست کے بم دھماکوں کے بعد سخت حفاظتی انتظامات قائم کیے ہوئے تھے تاہم اس کے باوجود مزید دھماکے ہوئے۔ 14نومبر کو جنوبی شہر جھلاکتھی میں دو جج بم دھماکے میں ہلاک ہوئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جہادی قوتیں تشدد کی ذمہ دار ہیں۔ جمعرات کے عام ہڑتال سمیت اس سال 17 ہڑتالیں ہوئی ہیں جبکہ گزشتہ سال ملک بھر میں 20 ہڑتالیں ہوئی تھیں۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ ان ہڑتالوں کی وجہ سے بنگلہ دیش کی معیشت کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش مظاہرے: ریل کو آگ لگا دی22 August, 2004 | آس پاس ہڑتال: بنگلہ دیش میں زندگی معطل24 August, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش میں ایک اور ہڑتال 30 August, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش سے کارروائی کا مطالبہ06 September, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش درگاہ پر بموں سے حملہ13 August, 2005 | صفحۂ اول بنگلہ دیش بھر میں تین سو دھماکے 17 August, 2005 | آس پاس بنگلہ دیش: پائلٹوں کی ہڑتال ختم27 September, 2005 | پاکستان بنگلہ دیش میں دھماکے، دو ہلاک03 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||