بنگلہ دیش درگاہ پر بموں سے حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقی بنگلہ دیش میں ایک درگاہ پر کئی بم پھینکے گئے جن میں پچاس افراد زخمی اور ایک شخص ہلاک ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بم گھریلو ساختہ تھے اور جمعہ کو اس وقت پھینکے گئے جب درگاہ میں عرس جاری تھا۔ یہ درگاہ دارالحکومت ڈھاکہ سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر اکھؤرا کے مقام واقع ہے۔ اس سلسلے میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ بتایا گیا ہے کہ ہر سال عرس کے موقع پر ہزاروں مرد، عورتیں اور بچے جمع ہوتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حضرت شاہ سید احمد کی اس درگاہ پر حملے میں ایک بے شناخت آدمی ہلاک ہوا ہے۔ بہت سے زخمیوں کو مرہم پٹی کے بعد ہسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے جب کہ کچھ کو مزید طبی امداد کے لیے روک لیا گیا ہے۔ پولیس ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہی۔ بنگلہ دیش میں کسی درگاہ پر اس طرح کے حملے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ گزشتہ سال مئی میں سلہٹ کی ایک درگاہ پر اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب برطانوی ہائی کمشنر وہاں گئے تھا اور حملے کے نتیجے میں زخمی ہو گئے تھے۔ جب کہ تین افراد ہلاک اور پچاس کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||