نائٹ کلب کی ایک رات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کی سفارتکار کو اپنے خاوند کی نیو یارک کے ایک نائٹ کلب میں مہنگی رات کے بعد بنگلہ دیش واپس بلا لیا گیا ہے۔ سفیر مینا تسنیم کے خاوند توحید الچودھری کا کہنا ہے کہ انہوں نے نائٹ کلب میں سات گھنٹے گزارے جس کا بِل ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر بنا دیا گیا۔ کلب کی انتظامیہ نے توحید چودھری کی طرف سے بے ایمانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے جشن منا رہے تھے جیسے وہ کوئی نواب ہوں۔ چودھری کا کہنا ہے کہ وہ نشے میں تھے اور انہیں بِلوں پر دستخط کرنا یاد نہیں۔ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے مینا تسنیم کو فوراً ڈھاکہ رپورٹ کرنے کے لئے کہا ہے۔ حکم نامے کے مطابق ایسا عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش اور برطانیہ کے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق توحید الچوھدری کے خلاف جو بِل بنا ہے اس میں کلب میں کام کرے والی لڑکیوں کے ساتھ ساڑھے چھ ہزار بار ’لیپ ڈانس‘ کیا جا سکتا ہے اور مہنگی شیمپین کی انتالیس بوتلیں ختم ہو سکتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کلب کا بِل چار مختلف کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ادا کیا گیا اور یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ یہ پیسے کس چیز پر خرچ ہوئے۔ توحید الچودھری نے نیو یارک کے سپریم کورٹ میں کلب کے خلاف دعویٰ دائر کیا ہے جس میں انہوں نےاس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ نشے میں تھے اور صبح چار بجے تک کلب میں موجود رہے۔ اپنے دعویٰ میں چوھدری نے کلب سے ایک لاکھ انتیس ہزار چھ سو چھبیس ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک برطانوی اخبار نے نائٹ کلب کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ وہاں سربراہان ریاست آتے ہیں اور یہ شخص بھی ایسے ہی رات گزار رہا تھا جیسے کوئی حکمران ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||