بنگلہ دیشی شدت پسند گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کے سب سے بڑے اسلامی عسکریت پسند کو شمالی ضلعے میں ایک مسلح جھڑپ کے بعد گرفتار کرلیا ہے۔ صدیق الاسلام المعروف ’بنگلہ بھائی‘ کا تعلق کالعدم قرار دی گئی تنظیم جماعت المجاہدین (جے ایم بی) سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں میمن سنگھ ضلعے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے تنظیم کے لیڈر عبدالرحمٰن نے شمال مشرقی ضلعے سلہٹ میں پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ حکام کا الزام ہے کہ جے ایم بی تنظیم بم حملوں کے ایک سلسلے میں ملوث ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی افواج نے اتوار کی رات صدیق الاسلام کے ٹھکانے کا محاصرہ کیا۔ ملک کے انسداد جرائم کے ادارے کی ایک شاخ ریپڈ ایکشن کے ایک اہلکار معشوق حسن نے بتایا کہ محاصرے کے بعد ٹھکانے کے اندر موجور عسکریت پسندوں نے دستی بم باہر پھینکے جس کے بعد مسلح جھڑپ شروع ہوگئی۔ ایک بم تو ٹھکانے کے اند ہی پھٹ گیا جس سے عمارت کی چھت کو نقصان پہنچا اور صدیق الاسلام سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق صدیق الاسلام کا کافی خون ضائع ہوا اور کئی زخم بھی آئے۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔ جس کے بعد انہیں ایک فوجی ہسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار رولینڈ بیورک کے مطابق بنگلہ بھائی کا نام سن 2004 میں سامنے آیا تھا جب ان کی تنظیم ’جگراتا مسلم جنتا‘ نے ملک کے شمالی حصوں میں تخریب کاری کی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ جے ایم بی پر کئی بم حملوں کے الزامات ہں۔ انہوں نے مبینہ طور پر مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر علاقے میں اسلامی قوانین نافذ کرنے کی بھی کوشش کی تھی، عورتوں کو برقعہ اوڑھنے پر مجبور کیا گیا اور مردوں کو داڑھی رکھنے پر۔ فروری میں ایک عدالت نے اسلام، رحمان اور مزید دو ساتھیوں کو ایک بم حملے کے مقدمے میں 40 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس حملے میں دو جج ہلاک ہوگئے تھے۔ گزشتہ اگست میں بنگلہ دیش کے 64 اضلاع میں ایک گھنٹے کے اندر اندر 500 بم دھماکے کیئے گئے تھے جن میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کالعدم تنظیم کا مطالبہ ہے کہ ملک میں اسلامی قوانین نافذ کیئے جائیں۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش:شدت پسند رہنماگرفتار02 March, 2006 | آس پاس خالدہ ضیاء پاکستان پہنچ گئیں 12 February, 2006 | پاکستان ’فرانسیسی جہاز قبول نہیں‘17 February, 2006 | آس پاس بنگلہ بھاشا اندولن: ڈھاکہ پہ کیا بیتی21 February, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||