بنگلہ دیش:شدت پسند رہنماگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیشں کی کالعدم تنظیم جماعت المجاہدین کے سربراہ شیخ عبدالرحمٰن نے اپنے گھر کےطویل محاصرے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ ان کی گرفتاری کے آپریشن کا آغاز منگل کی رات کو ہی ہوگیا تھا جب پولیس اور سریع الحرکت ایلیٹ بٹالین اور بنگلہ دیش رائفلز کے پانچ سو سے زائد افراد نے شمال مشرقی بنگلہ دیش کے علاقے سلہٹ میں ایک دو منزلہ مکان کو گھیرے میں لیا۔ پولیس کے مطابق یہ مکان دھماکہ خیز مواد سے بھرا ہوا تھا بدھ کی صبح شیخ عبدالرحمان کی بیوی اور آٹھ دوسرے افراد نے مکان سے باہر آکر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ جمعرات کی صبح شیخ عبدالرحمان نے دو ساتھیوں سمیت خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ حکام کے مطابق ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ جماعت المجاہدین پر الزام ہے کہ وہ بنگلہ دیشں میں ایسے سلسلہ وار دھماکوں میں ملوث ہیں جو پچھلے سال اگست میں شروع ہوئے تھے اور جن میں کم از کم اٹھائیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس سے پہلے عبدالرحمان اور جماعت المجاہدین کے ایک دوسرے مرکزی رہنما صدیق الاسلام کو بم حملے میں دو ججوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں چالیس سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔انہیں یہ سزا ان کی غیر موجودگی میں سنائی گئی تھی۔ جماعت المجاہدین کے اراکین کے خلاف سو سے زائد مقدمات درج ہیں اور انتظامیہ ان پر الزام لگاتی ہے کہ انہوں نے بم پھوڑنے کی ایک مہم بھی چلائی تھی۔ یہ شدت پسند تنظیم ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہے۔ | اسی بارے میں امدادی کارکن پر بغاوت کاالزام21 June, 2004 | صفحۂ اول زنااورقتل پر پولیس اہلکار کو پھانسی30 September, 2004 | صفحۂ اول ’آنکھ لے لو پیسے دے دو‘21 April, 2005 | صفحۂ اول بنگلہ دیش درگاہ پر بموں سے حملہ13 August, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||