BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 June, 2004, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی کارکن پر بغاوت کاالزام
امدادی کارکن یا سرکش؟
قاضی فاروق احمد کے ہامی انکی فوری رہائی چاہتے ہیں
بنگلہ دیش کی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے امدادی ادارے کے سربراہ کے خلاف بغاوت کا الزام لگایا ہے۔

قاضی فاروق احمد کے علاوہ چھ اور لوگوں پر بھی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے کا الزام ہے۔

قاضی احمد پر الزام ہے کہ انہوں نے ہزارہا لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسا کر اپریل میں ایک بہت بڑے حکومت مخالف مظاہرے کا منصوبہ بنایا تھا۔

قاضی فاروق احمد کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ان الزامات کا مقصد صرف انہیں حراساں کرنا ہے۔

قاضی احمد پروشکا نامی ایک غیر سرکاری ادارے کے سربراہ ہیں۔ پروشکا کا شمار دنیا کے سب سے بڑے غیر سرکاری اداروں میں ہوتا ہے، اور وہ بنگلہ دیش میں افلاس کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جس سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

یہ ادارہ لگ بھگ بیس لاکھ غریب عورتوں کو تعلیم و تربیت فراہم کرتا ہے، اور انہیں اپنا کام شروع کرنے کے لئے چھوٹے قرض دیتا ہے۔

مگر حکومت کا کہنا ہے کہ پروشکا غیر قانونی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور حکومت کو غیر مستحد کر نے کی کوششوں میں شامل ہے۔

قاضی احمد پر الزام ہے کہ ڈھاکا میں کچھ ماہ پہلے حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں انہوں نے کرائے کے مظاہرین حاصل کئے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔

انکا ادارہ اکثر بنگلہ دیش کی مخلوط حکومت میں شامل ان دو اسلامی جماعتوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے جو عورتوں کے گھر سے باہر کام کرنے کی مخالف ہیں۔

قاضی احمد کے خلاف یہ تازہ ترین الزامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب وہ اپنے خلاف دھوکہ دہی سمیت دیگر مجرمانہ مقدمات میں ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ یہ سبھی الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے قاضی احمد کے خلاف ایک دن میں 15 مقدمے درج کئے ہیں اور بغاوت کا الزام باقی دوسرے الزامات سے مختلف نہیں ہے۔

پچھلے ماہ انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قاضی فاروق احمد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جان کو مقامی پولیس سے خطرہ ہے۔ ایمنسٹی نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ 2001 میں ہونے والے انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت نے پروشکا کے کارکنوں کو نشانہ بنایا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ حکومت نے پروشکا کو ملنے والے فنڈز پر پابندی لگا دی، اس کے دفاتر پر چھاپے مارے اور اس پر مالیاتی بے قایدگی کا الزام لگایا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد