’آنکھ لے لو پیسے دے دو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں ایک عورت نے اخبار میں اشتہار دیا ہے کہ وہ اپنی ایک آنکھ بیچنا چاہتی ہے۔ ڈھاکہ کی رہنے والی شیفالی بیگم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے پاس غربت سے بچنے کا یہ واحد راستہ تھا۔ اس نے کہا کہ اس کے پاس گھر کا کرایہ دینے اور اپنی بچی کو کھانا کھلانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس اشتہار سے غریب لوگوں میں اس طرح کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔ بنگلہ دیش میں جسمانی اعضاء کی فروخت غیر قانونی ہے لیکن اس پر کم ہی عمل درآمد ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش کے اخبارات میں اکثر گردوں کی فروخت کے اشتہارات چھپتے رہتے ہیں۔ چھبیس سالہ شیفالی بیگم ڈھاکہ میں اپنی ڈھائی سالہ بیٹی کے ساتھ ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کا خاوند شادی کے چار سال بعد اسے چھوڑ گیا تھا۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے اس واقعہ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||