BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 April, 2005, 00:28 GMT 05:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آنکھ لے لو پیسے دے دو‘
شیفالی بیگم
’اپنی بچی کے لیے کچھ زمین خریدنا چاہتی ہوں‘
بنگلہ دیش میں ایک عورت نے اخبار میں اشتہار دیا ہے کہ وہ اپنی ایک آنکھ بیچنا چاہتی ہے۔

ڈھاکہ کی رہنے والی شیفالی بیگم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے پاس غربت سے بچنے کا یہ واحد راستہ تھا۔

اس نے کہا کہ اس کے پاس گھر کا کرایہ دینے اور اپنی بچی کو کھانا کھلانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس اشتہار سے غریب لوگوں میں اس طرح کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔

بنگلہ دیش میں جسمانی اعضاء کی فروخت غیر قانونی ہے لیکن اس پر کم ہی عمل درآمد ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش کے اخبارات میں اکثر گردوں کی فروخت کے اشتہارات چھپتے رہتے ہیں۔

چھبیس سالہ شیفالی بیگم ڈھاکہ میں اپنی ڈھائی سالہ بیٹی کے ساتھ ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کا خاوند شادی کے چار سال بعد اسے چھوڑ گیا تھا۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے اس واقعہ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد