’فرانسیسی جہاز قبول نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش نے زہریلے مادے سے آلودہ جہاز فرانسیسی جنگی بحری جہاز ایس ایس ناروے کے اپنی سمندری حدود میں داخلے پر پابندی لگادی ہے۔ اس بات کا فیصلہ بنگلہ دیش کے وزیر ماحولیات طارق الاسلام نے سرکاری حکام اور ماحولیات کے لیے کام کرنے والے گروپوں سے ایک ملاقات کے بعد کیا۔ بنگلہ دیش کی طرف سے ایس ایس ناروے کے ملک کی سمندری حدود میں داخلے پر پابندی زہریلے مادے سے آلودہ ایک اور بحری جہاز کلیمنسو کے فرانس واپس بلائے جانے کے اعلان کے ایک روز لگائی گئی ہے۔ ماحولیات کے کام کرنے والے گروپ گرین پیس کا کہنا ہے کہ ایس ایس ناروے اس کی زہریلے مادے سے آلودہ گروپ بحری جہازوں کی فہرست میں شامل ہے۔ انیس سو ساٹھ میں ایس ایس فرانس کے طور پر شروع ہونے والا یہ بحری جہاز گزشتہ کئی ماہ سے ملائشیا کے ساحل کے پاس کسی خریدار کے انتظار میں لنگر انداز ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر ماحولیات طارق الاسلام کا کہنا ہے کہ ملک کے مرکزی بینک اور کسٹمز ڈیپارٹمینٹ سے کہا گیا ہے کہ اس جہاز کی درآمد کے لیے کوئی امپورٹ آرڈر جاری نہ کریں۔ وزیرِ ماحولیات کے مطابق بحریہ اور کوسٹ گارڈ کو حکم دیا گیا ہے کہ جہاز کو بنگلہ دیش کی سمندری حدود میں نہ گھسنے دیں۔ ایک بنگلہ دیشی سکریپ تاجر حاجی لقمان حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے گیارہ منزلہ بحری جہاز کو ایک بھارتی خریدار کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر میں خرید لیا ہے اور اب وہ ادائیگی کا انتظار کر رہے ہیں۔ مسٹر لقمان حسین نے حکومتی فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلہ کے خلاف عدالت میں اپیل نہیں کریں گے۔ ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ایس ایس ناروے پر پابندی سے متعلق حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے پہلے ماحولیاتی تنظیموں نے ایس ایس ناروے کی درآمد کو رکوانے کے لیے حکومت کو قانونی نوٹس بھجوا رکھے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ایس ایس ناروے کا 1250 ٹن حصہ ایسبیسٹاس سے آلودہ ہے۔ | اسی بارے میں ’جہازوں کا قبرستان‘ زوال پذیر11 February, 2006 | انڈیا ’کلیمنسو‘ کے داخلے پر پابندی13 February, 2006 | انڈیا فرانسیسی حکومت کا ’زہریلا درد سر‘15 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||