’جہازوں کا قبرستان‘ زوال پذیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی بھارت میں گجرات کے ساحل پر واقع النگ کو بحری جہازوں کے قبرستان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ دنیا بھر کے ہزاروں جہازوں کے لیے آخری بندر گاہ ثابت ہوتی ہے۔ اور یہاں ہی فرانس کا مشہور جنگی جہاز ’کلیمینسیو‘ متنازعہ حالات میں آئے گا بشرطیہ کہ سپریم کورٹ ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سے اتفاق نہ کرے۔ گرین پیس کا کہنا ہے کہ یہ جہاز اسبسٹاس کی بھاری مقدار سے بھرا ہوا ہے اس لیے اسے بھارت آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے جہاز توڑنے والے عملے کی صحت پر نقصان دہ اثرات مرتب ہوں گے۔ اسبسٹاس ایک ایسا مادہ ہے جسے آگ نہیں لگتی لیکن یہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ اس صنعت کے لیے زمین فراہم کرنے والے ادارے ’گجرات میری ٹائم بورڈ‘ نے گرین پیس کے اس دعوے کو رد کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے پاس جہاز پر موجود مضر صحت مادوں سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات ہیں۔ بورڈ کے کپتان کرتسن گوہل کا کہنا ہے کہ ’ہر شپ بریکنگ یارڈ میں فاضل مادوں کے لیے علیحدہ حصے موجود ہیں اور کارکنوں کو اس کام کے لیے تربیت دی گئی ہے۔ ہمارے پاس اس کام کے لیے ماہر لوگ موجود ہیں اور ان کے پاس اسبسٹاس سے نمٹنے کے لیے مخصوص آلہ جات بھی موجود ہیں‘۔ تاہم گرین پیس کو اس دعوے پر اعتراض ہے اور وہ فرانس سے اس جہاز کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ پیر کے روز اپنا فیصلہ سنائے گی۔ ایک طرف ماحولیات کے لیے کام کرنے والے ہر روز مظاہرے کر رہے ہیں تو دوسری طرف گجرات میری ٹائم بورڈ نے اپنی حدود کے اندر تصاویر اتارنے کی اجازت دینے سے منع کر رکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسے پہلے ہی بہت زیادہ منفی تشہیر کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی تنظیموں کی مہم اور ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کے باعث یہ صنعت
اس وقت 173 میں سے صرف پندرہ یارڈ زیر استعمال ہیں۔ باقی گزشتہ دو سالوں کے دوران بند ہو چکے ہیں اور اس صنعت کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ میری ٹائم بورڈ کے مطابق ’شپ بریکنگ‘ کے بہت سے معاہدے اب چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کو مل رہے ہیں جہاں ماحولیات کے مسائل پر اتنی سختی نہیں ہے۔ بھارتی ’شپ ریسائیکلنگ انڈسٹری‘ کے صدر راج بھنسل کا کہنا ہے کہ ’کاروبار کی حالت بہت خراب ہے۔ ہو سکتا ہے ہم یہ سال نہ نکال سکیں۔ اس جگہ کی دیکھ بھال پر بھی اخراجات آتے ہیں۔ ہم اب زیادہ دیر تک یہ برداشت نہیں کر سکتے‘۔ اتر پردیش میں کام کی تلاش کے لیے جانے والے گوپال گپتا نے بھی ان حالات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یہاں پچھلے چھ سال سے آ رہا ہوں۔ پہلے ہر کسی کو کام مل جاتا تھا۔ اب مجھے مہینے میں صرف پندرہ دن کام ملا ہے۔ باقی وقت میں میں مونگ پھلی بیچتا ہوں‘۔ تاہم ہیرے کی صنعت کا یارڈ اب بھی کام کر رہا ہے۔ جس دن میں وہاں گئی، وہاں سخت دھوپ میں پینتالیس افراد کام کر رہے تھے جو جہاز سے حاصل ہونے والی مشینری کو ہتھوڑوں کی مدد سے توڑ رہے تھے۔ دو مزدور یارڈ میں سمندر کا پانی چھڑک کر گردو غبار کو اڑنے سے روک رہے تھے۔ ایسی صنعتیں جن میں مزدوری کا زیادہ استعمال ہو اکثر کام کرنے والوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار دو اور دو ہزار چار کے دوران اس صنعت میں کام کرنے والے پچاس مزدور یارڈز میں ہلاک ہوئے۔
کارکنوں کی تربیت اور بہتر لباس کے استعمال کے رجحان سے ان حادثات میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورتحال میں گرین پیس کے ایک کارکن شمبھو نکرانی کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کی مہم غلط سمت میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’چند سال پہلے ایک حادثے میں میرا بھائی ہلاک ہو گیا تھا اور اس کے بعد سے میں نے کارکنوں کی حالت بہتر بنانے کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ اب حالات کافی بہتر ہیں۔ کارکنوں کو تربیت اور حفاظتی لباس دیے گئے ہیں اور ان کے کام اور تنخواہ کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے‘۔ النگ میں مزدور اس بات سے متفق ہیں کہ گرین پیس کے کام سے ان کے حالات میں بہتری آئی ہے لیکن وہ گرین پیس کو صنعت کے زوال کی ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہیں۔ النگ میں گرین پیس کے خلاف بینر بھی آویزاں ہیں۔ حکام تسلیم کرتے ہیں کہ فرانسیسی جہاز کے آنے یا نہ آنے سے النگ کے مستقبل پر اتنا زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم انہیں امید ہے کہ النگ کی حالت میں بہتری کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس صنعت کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو جہازوں کا یہ قبرستان خود موت کے منہ میں چلا جائے گا۔ |
اسی بارے میں ہند و پاک تجارت: 76 فیصد کا اضافہ13 January, 2006 | انڈیا بھارت: ہڑتال سے ٹویوٹا کا پلانٹ بند09 January, 2006 | انڈیا بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا بھارت میں اب چینی طرز کے تجارتی زون10 May, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||