بھارت میں افراط زر کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے مرکزی بینک نے غیر متوقع طور پر شرح سود اعشاریہ دو پانچ فیصد سے بڑھا کر پانچ اعشاریہ پانچ فیصد کردی ہے۔ زراعت کے شعبہ سے زیادہ منافع کے پیش نظر بھارت کے ریزرو بینک نے پیشن گوئی کی تھی کہ موجودہ مالی سال میں معیشت کی شرح نمو سات اعشاریہ پانچ فیصد سے آٹھ فیصد تک ہوگی۔ بینک نے اب اپنی پیشن گوئی گزشتہ اپریل کی نسبت دگنی بتائی ہے جب معیشت کی ترقی کی شرح سات فیصد بتائی گئی تھی۔ حالیہ چند ماہ میں اچھی مون سون بارشوں کے باعث بھارت میں فصلیں امید سے کہیں زیادہ اچھی پیدا ہوئی ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، کاروبار میں قرضہ کی شرح میں اضافے اور گھریلو مانگ میں اضافے کے باعث خدشہ ہے کہ ملک میں افراط زر کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔ اپنے سہ ماہی جائزے میں بینک نے کہا ہے کہ شرح سود میں اضافے کی محتاط پالیسی سے افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح اور معیشت پر اس کے منفی اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل بینک نے گزشتہ اکتوبر میں ایسے ہی خدشات کی بنیاد پر شرح سود میں اضافہ کیا تھا۔ قرضہ لینے والے ادارے اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے والے حلقے امید کررہے ہیں کہ کہ شرح سود مستحکم رہے تاکہ ملکی معیشت مضبوط تر ہوجائے۔ |
اسی بارے میں بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا ممبئی اسٹاک، ریکارڈ اضافہ08 September, 2005 | انڈیا رقم کی وصولی کا انوکھا طریقہ21 August, 2005 | انڈیا رلائنس ڈیل سے شیئرز میں اضافہ 21 June, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||