رقم کی وصولی کا انوکھا طریقہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے ایک بینک نےقرضوں کے بقایہ جات کی وصولی کے لیے قرض داروں کو سرعام بےعزت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے بینک کی مالی حالات کو بہتر بنانے کے لیےیہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ رقم کی وصولی کے لیے ریاست اڑیسا میں’اربن کاپریٹو بینک‘ کے ملازمین نے قرض داروں کی رہائش گاہوں کے سامنے احتجاج شروع کردیا ہے۔ گزشتہ ہفتےمختلف پوسٹرز اور بینرز کی مدد سے دو قرض داروں کےگھروں کے سامنے احتجاج کیا گیا تھا۔ ان احتجاجی بینرز پر قرض داروں کےخلاف پیغام بھی لکھے گئے تھے۔ ایک بینر پر لکھا تھا کہ ’بینک کی رقم ادا کر دو ۔ بینک کا روپیہ ٹھگنے کے لیے نہيں ہے‘۔ بینک کےایک ملازم نرانجن پردھان کا کہنا ہے کہ یوں سرعام قرض داروں کو بے عزت کرنے کےفیصلے سے پہلے بینک رقم کی وصولی کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کر چکاہے۔ بینک نے قرض داروں کو کئی مرتبہ قرض ادا کرنے کے لیے نوٹس بھی بھیجا۔ مسٹر پردھان نے بتایا کہ ’بینک کی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے رقم کی وصولی کا یہ آخری طریقہ رہ گیا ہے‘۔ اس وقت بینک کی ستتر فیصد رقم قرض داروں پر واجب الادا ہے جو بینک اب تک وصول نہیں کر سکا ہے۔ بینک نےقرض داروں سےاکسٹھ لاکھ ڈالر یعنی تقریبا ستاسی کروڑ روپے سے زيادہ کی رقم وصول کرنی ہے۔ دوسری جانب بینک کےاس اقدام سے پریشان قرض دار چھپتے پھر رہے ہیں۔ اطلاعات کےمطابق ایک قرض دار نے خود کواس وقت نظر بند کر لیا جب وصولی کرنے کے لیے بینک کےملازمین اس کےگھر کےسامنے احتجاج کر رہے تھے۔ بینک کا خیال ہے کہ یوں سرعام بےعزت کرنے سے قرض داروں کو مجبوراً روپے واپس کرنے پڑیں گے۔ تین مہینے قبل آندھرا پردیش کے ایک ضلع میں واقع ایک بینک کے ملازمین نے اسی طرح ایک قرض دار کے گھر کے سامنے ڈھول بجا کر احتجاج کیا تھا۔ اس احتجاج کے نتیجےمیں بینک کو اپنی رقم واپس مل گئی تھی۔ اس طرح اربن کاپریٹو بینک کا کہنا ہے کہ جس طرح نزدیکی ضلع میں ملازمین کو رقم کی وصولی میں کامیابی حاصل ہو ئی ہے اسی طریقے سے انہیں بھی قرض داروں سے رقم واپس ملنے کی امید ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||