’ممبران اسمبلی کے بل کیوں معاف کیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی سپریم کورٹ نےبہار بجلی بورڈ کو ریاستی اسمبلی کے تمام ارکان کے بجلی بلز معاف کرنے پر جواب مانگا ہے۔ سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کی ایک پٹیشن کی سماعت کے بعد انتخابی کمیشن اور بہار بجلی بورڈ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ بہار بجلی بورڈ نے ریاستی اسمبلی کے تمام ارکان کے بجلی بلز معاف کر دیئے ہیں۔ مفادعامہ کی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ بہار بجلی بورڈ کروڑوں روپے کے خسارے میں ہے۔ ایسی صورت میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سیاسی لیڈروں کے بل کیوں معاف کیے گۓ ہیں ۔ انتخابی کمیشن کے اصولوں کے مطابق کاغذات نامزدگی کے وقت تمام امیدواروں کو بقایاجات اداکرنا ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بہار اور جھار کھنڈ کی حکومتوں سے ایسے ملازمین کو معاوضہ دینے کو کہا ہے جنکی کمپنیاں بند کر دی گئی تھیں۔ ان کمپنیوں کے ہزاروں ملازمین کو کئی برسوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں جس کے سبب انہیں سخت مالی دشواریوں کا سامنا ہے۔ سپریم کورٹ نے آئین آرٹیکل21 کے تحت زندگی بسر کرنے کے بنیادی حق کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست بہار اور جھارکھنڈ کی حکومتوں سے 75 کروڑ روپے جمع کرنے کو کہا ہے۔ یہ رقم تقریبا 25 ہزار ایسے ملازمین میں تفسیم کی جائے گی جو خسارے میں چلنے والی کمپنیوں میں کام کرتے تھے اور بھر بعد میں حکومت نے ان کمپنیوں کو بند کر دیا تھا۔ ان میں سے بہت سے ملازمین کو گزشتہ کئی برسوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے ۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ مفادعامہ کی ایک عذرداری پر سماعت کے بعد دیا ہے جس میں کہا گيا تھا کہ تقریبا ایک ہزار سے زیادہ ایسے ملازم مالی دشواریوں کے سبب ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے کئی نے خود کشی کرلی ہے۔ عدالت کی ہدایات کے مطابق پچاس کروڑ بہار حکومت کو اور پچیس کروڑ جھارکھنڈ کو دینا ہوگا۔ اس حکم پر عملدر آمد کے لیے دونوں کو دو ماہ کا وقت دیا گيا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||