بھارت کے کال سینٹر خبروں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا بھارت میں انفارمیشن سکیورٹی کا مسئلہ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کال سینٹرز کے لیے خطرہ بن کر ابھر رہا ہے؟ بھارت کے کال سینٹروں سستے ہونے کی وجہ سے غیرملکی کمپنیوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ ان کال سینٹروں کے حوالے سے حال ہی میں خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کے ایک ہزار سے زائد برطانوی گاہکوں کے بینک کوائف ایک برطانوی اخباری رپورٹر کو فروخت کر دیے گئے ہیں۔ سن اخبار نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ایک صحافی نے ان کال سینٹروں کے گاہکوں کے پاس ورڈس، پتے اور پاسپورٹ کی تفصیلات دِلّی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک ملازم سے خریدی گئیں اور اسے ہر معلومات کے عوض چار اعشاریہ دو پانچ ڈالر کی رقم ادا کی گئی۔ بھارتی حکومت نے اسے واقعہ کو غیر معمولی قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ انفارمیشن سکیورٹی کا مسئلہ ایک کال سینٹر میں انفارمیشن سکیورٹی کے انچارج راگھما رامن کا ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں انفارمیشن سکیورٹی کی صورت حال اچھی نہیں ہے کیونکہ پونا کے ایک کال سینٹر میں سکیورٹی چیک کے دوران ان کی کمپنی نے گاہکوں کے کوائف کو کچرے کی ایک ٹوکری میں پایا۔ راگھما رامن جیسے اور دیگر انفارمیشن سکیورٹی کے ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کو کال سینٹرز کے حوالے سے ایک بہتر مثال پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں گاہکوں کے حوالے سے معلومات کا پھیل جانا یا ان کی فروخت سے متعلق خبریں ایک سنجیدہ مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔ کیونکہ امریکہ اور برطانیہ میں یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ کال سینٹر انڈیا میں منتقل ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔ برطانوی اخبارات میں ان کمپنیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بھارت میں ان کال سینٹرز کے حوالے سے سکیورٹی مشکوک ہے اور وہاں کوائف کا فراڈ بھی عام ہے۔ ماہرین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بھارت نے اگر کال سینٹروں کے حوالے سے اپنی بالادستی قائم رکھنی ہے تو اسے کال سینٹروں کی سکیورٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قوانین کو بہتر بنانا ہوگا۔ اگر برطانوی اخبار کی اس خبر کودرست تسلیم کر لیا جائے تو دوسال کےعرصے میں کال سینٹر کے فراڈ کے حوالے سے سامنےآنے والا یہ تیسرا واقعہ ہوگا۔ سا ئبر وکیل پون ڈوگل کا کہنا ہے کہ ’بھارت کے لیے یہ واقعہ کال سینٹرز کی صنعت کو ہوشیار کر نے والی کال ہے جسے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور اگر اس طرح کے واقعات ہوتے رہے تو پھر اس صنعت کےخاتمے کا دن دور نہیں‘۔ بھارت میں کال سینٹرز کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے دوہزار چار اور دو ہزار پانچ میں اس صنعت سے بھارت کو پانچ اعشاریہ دو بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی۔ ایک اندازہ ہے کہ رواں مالی سال میں اس صنعت سے تقریبًا چالیس فیصد واضح رہے کہ بھارت میں انفارمیشن سکیورٹی کے مسائل سے نپٹنے قوانین بھی موجود ہیں۔ پانچ سال پرانے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایکٹ کے تحت گاہکوں کے کوائف فروخت کر نے والے ملازم کو تین سال کی سزا اور ایک لاکھ روپے (دو ہزار دوسو ستاون ڈالر) جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مروّجہ قوانین کی رو سے وہ چوری، دھوکہ دہی اور قانون کو توڑنے کےجرم میں بھی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قوانین ای کامرس سے متعلق فراڈ کے حوالے سے ا تنے مضبوط نہیں اور نہ ہی ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قوانین پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ پون ڈوگل کا کہنا ہے کہ بھارت کو سائبر کرائمز کے حوالے سے اپنے قوا نین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ جرائم کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے دو ماہ قبل ایک سروے کیا تھا جس کے مطابق پانچ سو میں سے صرف پچاس سائبر جرائم کا پولیس اسٹیشنز میں اندراج ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کال سینٹرز کے ملازمین کےمکمل کوائف رکھنا بھی ضروری ہے جس سے کمپنیوں کو مجرموں سے نپٹنے میں مدد ملے گی۔ مگر یہ اقدام اس لیے مؤثر نہیں ہو سکتا کیونکہ ستر فیصد’وائٹ کالر کرائمز‘ کرنے والے عادی |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||