BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 June, 2005, 17:51 GMT 22:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت کے کال سینٹر خبروں میں
News image
انفارمیشن سکیورٹی کا مسئلہ کال سینٹرز کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے
کیا بھارت میں انفارمیشن سکیورٹی کا مسئلہ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے
کال سینٹرز کے لیے خطرہ بن کر ابھر رہا ہے؟

بھارت کے کال سینٹروں سستے ہونے کی وجہ سے غیرملکی کمپنیوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

ان کال سینٹروں کے حوالے سے حال ہی میں خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کے ایک ہزار سے زائد برطانوی گاہکوں کے بینک کوائف ایک برطانوی اخباری رپورٹر کو فروخت کر دیے گئے ہیں۔

سن اخبار نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ایک صحافی نے ان کال سینٹروں کے گاہکوں کے پاس ورڈس، پتے اور پاسپورٹ کی تفصیلات دِلّی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک ملازم سے خریدی گئیں اور اسے ہر معلومات کے عوض چار اعشاریہ دو پانچ ڈالر کی رقم ادا کی گئی۔

بھارتی حکومت نے اسے واقعہ کو غیر معمولی قرار دے کر رد کر دیا ہے۔

لیکن کچھ لوگوں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ انفارمیشن سکیورٹی کا مسئلہ
ملک کے کال سینٹروں جو سستے ہونے کی وجہ سے غیرملکی گاہکوں کے لیے بڑی کشش کا باعث ہیں، ایک خطرہ بن سکتا ہے۔

ایک کال سینٹر میں انفارمیشن سکیورٹی کے انچارج راگھما رامن کا
کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں نے کال سستی ہونے کی وجہ سے
کال سینٹر بھارت میں قائم کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں انفارمیشن سکیورٹی کی صورت حال اچھی نہیں ہے کیونکہ پونا کے ایک کال سینٹر میں سکیورٹی چیک کے دوران ان کی کمپنی نے گاہکوں کے کوائف کو کچرے کی ایک ٹوکری میں پایا۔

راگھما رامن جیسے اور دیگر انفارمیشن سکیورٹی کے ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کو کال سینٹرز کے حوالے سے ایک بہتر مثال پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت میں گاہکوں کے حوالے سے معلومات کا پھیل جانا یا ان کی فروخت سے متعلق خبریں ایک سنجیدہ مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔ کیونکہ امریکہ اور برطانیہ میں یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ کال سینٹر انڈیا میں منتقل ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔

برطانوی اخبارات میں ان کمپنیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بھارت میں ان کال سینٹرز کے حوالے سے سکیورٹی مشکوک ہے اور وہاں کوائف کا فراڈ بھی عام ہے۔

ماہرین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بھارت نے اگر کال سینٹروں کے حوالے سے اپنی بالادستی قائم رکھنی ہے تو اسے کال سینٹروں کی سکیورٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قوانین کو بہتر بنانا ہوگا۔

اگر برطانوی اخبار کی اس خبر کودرست تسلیم کر لیا جائے تو دوسال کےعرصے میں کال سینٹر کے فراڈ کے حوالے سے سامنےآنے والا یہ تیسرا واقعہ ہوگا۔

سا ئبر وکیل پون ڈوگل کا کہنا ہے کہ ’بھارت کے لیے یہ واقعہ کال سینٹرز کی صنعت کو ہوشیار کر نے والی کال ہے جسے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور اگر اس طرح کے واقعات ہوتے رہے تو پھر اس صنعت کےخاتمے کا دن دور نہیں‘۔

بھارت میں کال سینٹرز کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے دوہزار چار اور دو ہزار پانچ میں اس صنعت سے بھارت کو پانچ اعشاریہ دو بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی۔

ایک اندازہ ہے کہ رواں مالی سال میں اس صنعت سے تقریبًا چالیس فیصد
زائد آمدنی حاصل ہونے کی امید ہے۔ اس صنعت سے تقریبًا تین لاکھ پچاس ہزار لوگ وابستہ ہیں۔اس پیشے سے متوسط طبقے کے زیادہ تر نوعمر لڑکے اور لڑکیاں تعلق رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں انفارمیشن سکیورٹی کے مسائل سے نپٹنے قوانین بھی موجود ہیں۔

پانچ سال پرانے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایکٹ کے تحت گاہکوں کے کوائف فروخت کر نے والے ملازم کو تین سال کی سزا اور ایک لاکھ روپے (دو ہزار دوسو ستاون ڈالر) جرمانہ ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ملک کے مروّجہ قوانین کی رو سے وہ چوری، دھوکہ دہی اور قانون کو توڑنے کےجرم میں بھی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قوانین ای کامرس سے متعلق فراڈ کے حوالے سے ا تنے مضبوط نہیں اور نہ ہی ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قوانین پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔

پون ڈوگل کا کہنا ہے کہ بھارت کو سائبر کرائمز کے حوالے سے اپنے قوا نین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ جرائم کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے
جو رپورٹ نہیں ہوتے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے دو ماہ قبل ایک سروے کیا تھا جس کے مطابق پانچ سو میں سے صرف پچاس سائبر جرائم کا پولیس اسٹیشنز میں اندراج ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کال سینٹرز کے ملازمین کےمکمل کوائف رکھنا بھی ضروری ہے جس سے کمپنیوں کو مجرموں سے نپٹنے میں مدد ملے گی۔ مگر یہ اقدام اس لیے مؤثر نہیں ہو سکتا کیونکہ ستر فیصد’وائٹ کالر کرائمز‘ کرنے والے عادی
مجرم نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد