بھارت میں کال سینٹر کا فراڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں چلنے والے ایک کال سینٹر نے ایک ہزار برطانوی لوگوں کے بینک اکاونٹ کی تفصیلات ایک اخبار کے رپورٹر کو بیچ دی ہیں۔ برطانیہ میں کئی بڑی کمپنیوں نے اخراجات بچانے کے لیے ملک سے باہر کپمنیوں کو مختلف کاموں کے ٹھیکے دے رکھے ہیں۔ اس فراڈ کا پتہ چلنے کے بعد برطانیہ میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا غیر ملکی کپمینوں کو حساس معلومات تک رسائی مہیا کرنا ٹھیک قدم ہے یا نہیں۔ برطانوی اخبار سن کے ایک رپورٹر نے بھارت سے چلنے والے ایک کال سینٹر میں کام کرنے والے ایک شخص سے چار ڈالر فی پتہ کے حساب سے برطانیہ میں رہائش پذیر لوگوں کے بینک کی تفصیلات رپورٹر خریدی ہیں۔ سن کو بیچی گئی تفصیلات میں اکاونٹ ہولڈروں کے پتے، فون نمبر اور خفیہ پاس ورڈ شامل ہیں۔ لندن پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ فراڈ تحقیق کر رہے ہیں لیکن لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور اس طرح واقعات بہت ہی کم ہیں۔ کال سینٹر میں کام کرنے ورکر نے سن اخبار کے رپورٹر کو بتایا کہ وہ دو لاکھ لوگوں کے اکانٹ کی تفصیلات ان کو فراہم کر سکتا ہے۔ اخبار نے معلومات خریدنے کے بعد ایک ماہر سے بھی رائے لی جس کے مطابق معلومات اصلی لگتی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر لوگوں کے اکاونٹ سے رقم نکلوائی جا سکتی تھی۔ امایکس یونین نے لوگوں کی خفیہ معلومات کو غیر ملکی کپمنیوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ایسی کمپنیاں جو اپنے کاموں کے ٹھیکے غیر ملکی کمپنیوں کو دیتی ہیں ان کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||