ویزا اور ماسٹر کارڈ کمپنیوں پر مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امیریکن ایکسپریس نے کریڈٹ کارڈز کی دو بڑی کمپنیوں ’ویزا‘ اور ’ماسٹر‘ پر کاروباری تقاضوں کے منافی عمل کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ مقدمہ امریکی عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد دائر کیا گیا ہے جس میں ویزا اور ماسٹر دونوں کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتے کہ انہوں نے غلط طور پر بینکوں کو اپنے حریف اداروں کے کارڈ جاری کرنے سے منع کیا ہے۔ امریکین ایکسپریس کا کہنا ہے کہ وہ ویزا اور ماسٹر کی وجہ سے ہونے والے کاروباری نقصان کو پورا کرنے کے لیے کھربوں ڈالر کا زرِ تلافی طلب کرے گی۔’ صارف بائیکاٹ کی وجہ کاروباری مقابلے کے نتیجے میں سامنے آنے والے بدل سے محروم ہوئے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا ہے۔‘ امریکین ایکسپریس کے مطابق وہ بینک جو اس کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے انہیں ابتدا میں ہی روک دیا گیا۔ ادھر’ویزا‘ کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ یہ مقدمہ پورے زور و شور سے لڑے گی کیونکہ ’امیریکن ایکسپریس کو عدالت سے ویزا کے ارکان کے ذریعے اپنی مصنوعات رائج کرنے کی سہولت پہلے ہی مل گئی ہے۔‘ امیریکن ایکسپریس نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کتنا زرِ تلافی مانگ رہی ہے اور اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ یہ رقم کافی زیادہ ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی عدالتِ عظمیٰ نے ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا کہ ویزا اور ماسٹر دونوں نے قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ عدالت نے دونوں کمپنیوں کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی کوشش بھی ناکام بنا دی تھی۔ ماتحت عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ویزا اور ماسٹر کا امریکی بینکوں کو اس بات سے روکنے کا اقدام غلط تھا کہ وہ اس کے کاروباری حریفوں ’ڈسکور‘ اور امیریکن ایکسپریس کو کریڈٹ کارڈ جاری نہ کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||