BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 November, 2003, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کریڈٹ کارڈ بچا کر رکھنا
کریڈٹ کارڈز
انٹرنیٹ، ٹیلیفون اور فیکس پر کریڈٹ کارڈز کے ذریعے جعلساز ایک منٹ میں آٹھ سو پاؤنڈ کی ہیرا پھیری کررہے ہیں۔

انٹرنیٹ، ٹیلیفون اور فیکس پر کریڈٹ کارڈز کے ذریعے قیمت کی ادائیگی کا مشاہدہ کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ ان ذرائع کو استعمال کرنے والے جعلساز ایک منٹ کی مدت میں کم از کم آٹھ سو پاؤنڈ (تقریباً) اسّی ہزار روپے کی جعلسازی کررہے ہیں۔

اس تنظیم ایسوسی ایشن آف پے منٹس کلیئرنگ سروسز (انجمن خدمات وضاحت ادائیگی) یا اپیکس نے تنبیہ کی ہے کہ سب سے زیادہ خطرناک یا جعلسازی کا سب سے زیادہ شکار ہونے والی صورت ادائیگی وہ ہوتی ہے جس میں کریڈٹ کارڈ کا مالک دستخط کرنے کو موجود نہ ہو۔

زیادہ تر لوگ تو اس حقیقت کا ادراک تک نہیں رکھتے کہ کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی کی رسید پر وہ تمام اطلاعات یا ضروری اعداد و شمار موجود ہوتے ہیں جن کی کسی جعلساز کو ضرورت ہوسکتی ہے۔

ایسوسی ایشن نے مشورہ دیا کہ پرانی ہوجانے والی بینک اسٹیٹ منٹس اور ادائیگی کی رسیدوں کے بارے میں زیادہ محتاط رہا جائے اور انہیں پرزہ پرزہ کرکے ضائع کردیا جائے۔

تنظیم کے مطابق گزشتہ دو برس میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی جعلسازی میں تقریباً تینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کے مطابق حال میں اٹھائے گئے بعض اقدامات جن میں نام نہاد پن نمبر (پرسنل آئی ڈینٹی فیکیشن نمبر یا چپ نمبر) متعارف کرایا جانا وغیرہ شامل ہیں، اس قسم کی جعلسازی روکنے یا اس میں کمی کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

ان کریڈٹ کارڈز کے ذریعے خریداری کرتے وقت کسی دستخط کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ صارفین کو محض چار ہندوں پر مشتمل کوڈ (خفیہ ترتیب کو) بتانا پڑتا ہے۔

برطانیہ میں ان کریڈٹ کارڈز کے ہر پانچ میں سے ایک صارف کو اس سال کے اختتام تک نیا کریڈٹ کارڈز ملنے کی توقع ہے جبکہ کریڈٹ کارڈز کے تمام صارفین کی نصف تعداد کو اگلے چند ماہ تک نئے کریڈٹ کارڈز ملنے کی توقع ہے۔

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ جعلساز اور دھوکے باز کسی دوسرے کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ، ٹیلیفون اور فیکس پر کریڈٹ کارڈز کے ذریعے قیمت کی ادائیگی کرکے ایک ہفتے کی مدت میں تقریباً تین لاکھ پاؤنڈ (تقریباً تین کروڑ روپے) تک کی جعلسازی کرتے ہیں اور یہ رقم ایک تخمینے کے مطابق دس کروڑ چھیانوے لاکھ پاؤنڈ سالانہ تک جا پہنچتی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ہزار لوگوں کی ایک رائے شماری سے معلوم ہوا ہے کہ ہر تین میں سے ایک صارف اپنی پرانی بینک اسٹیٹ منٹس اور کریڈٹ کارڈز کی پرانی رسیدوں کو پرزہ پرزہ کرکے ضائع نہیں کرتا جبکہ انیس فیصد صارفین اپنا کریڈٹ کارڈز انٹرنیٹ، ٹیلیفون اور فیکس پر کریڈٹ کارڈز کے ذریعے قیمت کی ادائیگی کرکے خریداری کے لیے کسی دوسرے کے حوالے بھی کردیتے ہیں۔

ہر پانچ میں سے صرف ایک شخص نے کہا کہ وہ کبھی کبھار ہی اپنی بینک اسٹیٹ منٹس دیکھ لیتا یا پھر دیکھتا بھی نہیں ہے۔ ستہر فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ دوران خریداری او کا کریڈٹ کارڈ ادائیگی کے لئے کچھ دیر کو ان کی آنکھوں سے اوجھل کردیا گیا ہو۔

تنظیم کے مطابق صارف کی انٹرنیٹ، ٹیلیفون اور فیکس پر جس میں کریڈٹ کارڈ کا مالک دستخط کرنے کو موجود نہ ہو کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی دوسری بڑی جعلسازی ہوتی ہے جو اس سال جون تک اکتالیس کروڑ سولہ لاکھ پاؤنڈ تک جاپہنچی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد