BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 July, 2006, 06:27 GMT 11:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کیلیئے بھارتی موقف میں سختی

 منموہن سنگھ
پاکستان کے لیئے کئی بھارتی حلقوں کے موقف میں سختی آرہی ہے
بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اس بیان سے پاکستان کے لیئے بھارت کے موقف میں سختی ظاہر ہوتی ہے کہ پاک بھارت امن مذاکرات میں اس وقت تک پیش رفت نہیں ہوسکتی جب تک اسلام آباد دہشتگردوں کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کرتا۔

منگل کے دھماکوں کے بعد بھارت حکومت نے پہلی مرتبہ اپنے ’پرانے دشمن‘ کی طرف انگلی اٹھائی ہے۔

اس سے قبل بھارتی حکام اپنے بیانات میں کافی محتاط نظر آرہے تھے اور کسی کا نام لیئے بغیر ان دھماکوں کو دہشتگردانہ کارروائی قرار دے رہے تھے۔ تاہم کچھ اعلٰی حکام نے ان حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کی بات کی ہے۔ ایک بھارتی اخبار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے جمعرات کو کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات میں اب کوئی شک نہیں ہے۔

اور اب منموہن سنگھ نے کھلے طور پر کہا ہے کہ ممبئی میں بم دھماکے کرنےوالوں کو سرحد پار سے مدد حاصل تھی۔


ابھی تک ممبئی کے بم دھماکوں کی ذمہ داری کسی مخصوص تنظیم پر عائد نہیں کی گئی ہے۔ تاہم کئی حلقوں کا خیال ہے کہ ایسے منظم دھماکے کرنے کی صلاحیت صرف چند تنظیموں ہی کے پاس ہے۔

سب سے زیادہ شک کشمیر کی لشکر طیبہ تنظیم پر کیا جارہا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان اوربھارت دونوں ممالک میں کالعدم قرار دی جاچکی ہے۔ تاہم لشکر طیبہ نے ممبئی کے دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کردیئے ہیں۔

2001 میں بھارتی پارلیمان پر حملے کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم پر عائد کی گئی تھی اور اس سے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر آگئے تھے۔

بھارت میں دیگر بنیاد پرست اسلامی تنظیموں بشمول سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ کی طرف بھی انگلی اٹھائی جارہی ہے۔ تاہم ماضی میں اس تنظیم کے کسی بھی فرد پر ایسے الزامات نہیں عائد کیئے گئے ہیں۔


جنوری 2004 سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان امن کے عمل میں خاصی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ماضی میں تمام دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیئے بھارت کا پاکستان کو مورود الزام ٹھہرانا ایک معمول تھا۔

اگرچہ پاکستان نے ان حالیہ حملوں کی سختی سے مذمت کی ہے پھر بھی وزیر اعظم منموہن سنگھ کا بیان بھارت کے سخت ہوتے موقف کا عکاس ہے۔ بھارتی عوام مشتعل ہیں کہ حملوں کے تین دن بعد بھی کوئی گرفتاریاں نہیں ہوسکی ہیں۔

اگلے ہفتے ہونے ولے پاک بھارت خارجہ سکریٹری سطح کے مذاکرات ملتوی ہوگئے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات منسوخ ہوگئے تو یہ پہلا اشارہ ہوگا کہ پاک بھارت امن کا عمل خطرے میں ہے۔

عامر خانعامر خان کہتے ہیں
دھماکے بزدلانہ فطرت کا نمونہ ہیں
طارق کی والدہ ایک ماں کی فریاد
’کوئی مجھے میرا بیٹا واپس دے دے‘
ممبئی کے سیکولر
شہر کے سیکولر شہریوں کی امن کوششیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد