BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 July, 2006, 18:13 GMT 23:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی گرفتاریاں، سچ کیا ہے؟

ڈائریکٹر جنرل پولیس آشیش رنجن سنہا کہتے ہیں کہ دونوں کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ان کے مطابق بہار پولیس لگاتار ممبئی پولس سے رابطہ قائم ہوئے ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پولیس آشیش رنجن سنہا کہتے ہیں کہ دونوں کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ان کے مطابق بہار پولیس لگاتار ممبئی پولس سے رابطہ قائم ہوئے ہے۔
گیارہ جولائی کے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں بہار سے ہونے والی گرفتاریوں کے بعد مقامی میڈیا جتنی فراوانی سے ’جانکاری‘ فراہم کر رہا ہے بہار کی پولیس اسی تناسب سے ’ کوئی جانکاری نہیں‘ کا اعلان کر رہی ہے۔

گیا ضلع کے محمد جاوید اکرم اور انکے اہل خانہ کی جان میڈیا کی ’جانکاری کی فراوانی‘ اور پولیس کی عدم اطلاع کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔

محمد اکرم کوگیا کی پولیس نے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں گذشتہ جمعرات سے اپنے تحویل میں لے رکھا ہے۔گیا کے ایس پی امت کمار جین اب کہہ رہے ہیں کہ انہیں ممبئی پولس کے جواب کا انتظار ہے۔ بقول اسی پی ’ انتظار کے بعد اگر کوئی جواب نہیں ملا تو اکرم کو چھوڑ دیا جائے گا۔

اس سے قبل مقامی میڈیا نے ’خفیہ ذرائع‘ کے حوالے سے یہ خبر دی تھی کہ ممبئی پولیس کو ٹرین بم دھماکوں کے سلسے میں محمد اکرم کی تلاش ہے۔

بیشتر ہندی اور انگریزی اخباروں میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ اکرم کے گھر سے ایک تصویر ملی ہے جو ممبئی بم دھماکوں کے مبینہ ملزم سے ملتی جلتی ہے۔ اب پولیس یہ کہہ رہی ہے کہ مذکورہ تصویر اس لڑکے کی ہے جسکے رشتہ کی بات اکرم کی بھتیجی سے چل رہی تھی۔اکرم کے بھائی معین کے مطابق اکرم کے خلاف کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔

اکرم کے علاوہ مدھوبنی ضلع کے کمال احمد اور خالد عزیز کے بارے میں مقامی میڈیا ان کے ’مجرمانہ کردار ‘ اور نیپال اور لشکر طیبہ سے تعلقات کی تفصیل بتا رہا ہے۔

دوسری جانب ریاست کے ڈائریکٹر جنرل پولیس آشیش رنجن سنہا کہتے ہیں کہ دونوں کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ان کے مطابق بہار پولyس لگاتار ممبئی پولس سے رابطہ قائم ہوئے ہے۔ اسی طرح ہوم سیکرٹری افضل امان اللہ صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ پورا معاملے کی تفتیش کے بعد ہی کچہ کہا جا سکتا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق کمال کو نیپال میں پکڑے گۓ بم دھماکے کے ملزمان سے ملی جانکاری کی بنیاد پر گرفتار کیاگیاہے۔ اس بابت مدھوبنی کے ایس پی امرت راج کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کے علاوہ کچھ نہیں بتا سکتے کہ ان کے ضلع سے گرفتار دونوں ملزمان کو ممبئی پولس لے گئی ہے۔

میڈیا کے مطابق کمال نے کافی دولت جمع کر رکھی ہے لیکن جس گھر سے کمال کو پکڑا گیا وہ مخدوش حالت میں ہے۔

کمال کی ماں شہیدالنساء اپنے بیٹے کو بے قصور بتاتی ہیں۔ ان کے مطابق انکے مرحوم شوہر فوج میں درزی کا کام کرتے تھے اور انکا گھر فوج کی پینشن سے چل رہا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق کمال کے گھر سے ملا آدھا کیلوگرام پاؤڈر آر ڈی ایکس ہے جبکہ ایک اردو روزنامہ کے نامہ نگار کے مطابق وہ دراصل سیاہ سیمنٹ ہے۔ حقیقت کیا ہے، پولس کچھ بتانے کو تیار نہیں۔

میڈیا میں کس طرح کی جانکاری دی جا رہی ہے اس کا اندازہ ایک ہندی روزنامے کی اس شہ سرخی سے لگایا جا سکتا ہے جس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار ملزمان کے تعلقات دو مرکزی وزراء سے ہیں۔

میڈیا کے اس رویہ کے بارے میں سینئر صحافی شری کانت کہتے ہیں کہ جس احتیاط کی ضرورت ہے وہ کہیں نہیں نظر آتی۔ بقول شری کانت جیسے یہ باتیں بتائی جا رہی ہیں کہ کس علاقے سے کون سا شخص دہشت گردی کے الزام میں پکڑا گیا ویسے ہی یہ بات بھی سامنے آنی چاہیۓ کہ کتنی بار بے قصور لوگ پکڑے گۓ اور بعد میں پولیس کو انہں چھوڑنا پڑا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد