BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جامعہ ملیہ اسلامیہ: کشیدگی برقرار

طالب علموں کے تعلیمی سال پر تشویش پائی جاتی ہے
دلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء اور انتظامیہ کے درمیان حالیہ تشدد کے بعد کشیدگی اب بھی برقرار ہے اور غیرمعینہ مدت کے لیے یونیورسٹی بند ہونے کی وجہ سے طالبعلموں کے درمیان اپنے تعلیمی مستقبل پر تشویش پائی جارہی ہے۔ انتظامیہ سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے طلباء احتجاج کررہے ہیں اور بعض کئی دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیھٹے ہیں۔

احتجاج کررہے طلباء میں کنفلکٹ اسٹڈیز کے طالب علم ستیہ پرکاش بھی شامل ہیں اور وہ گزشتہ دو روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ’پروکٹر نے کیمپس کے باہر کے لوگوں کے ساتھ مل کر ہم لوگوں کی پٹائی کی تھی اور ہم اس وقت تک اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کرینگے جب تک پروکٹر کو ان کے عہدے سے ہٹایا نہیں جاتا۔‘

طلباء اور یونیورسٹی کے بعض اسٹاف کے درمیان جھڑپ اس وقت ہوئي تھی جب داخلے کے سلسلے میں اسٹوڈنٹس کا ایک گروپ وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن سے ملنے گیا تھا۔ طلباء کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی نے بعض طلباء کو 'ٹیسٹ' پاس کرنے کے باوجود داخلہ نہیں دیا ہے اور انتظامیہ نے انہیں داخلہ نہ دینے کی وجوہات بھی نہیں بتائیں۔ طلباء کا الزام ہے کہ وائس چانسلر نے ان سے بات نہیں کی اور پروکٹر راکٹ ابراہیم نے بعض لوگوں کے ساتھ ملکر ان کی پٹائی کی۔

 ہم جلد از جلد اس سارے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہم نے پورے معاملے کی تفتیش ہائی کورٹ کے ایک سبکدوش جج کے حوالے کی ہے۔
وائس چانسلر مشیرالحسن
فی الوقت طالب علموں کا احتجاج تیزی پر ہے۔ جامعہ کے طلباء اور انتظامیہ کے درمیان جھڑپ میں کئی ديگر طلباء کے ساتھ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر شمس پرویز بھی زخمی ہوگۓ تھے۔ شمس پرویز کا کہنا ہے کہ ’وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن کو اپنا عہدہ چھوڑنا ہوگا کیونکہ یونیورسٹی کے پروکٹر نے طلباء کے ساتھ مار پیٹ کی تھی لیکن انہوں نے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس پورے معاملے کی تھانے میں ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔

جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مشیرالحسن کا کہنا ہے کہ ’ہم جلد از جلد اس سارے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے پورے معاملے کی تفتیش ہائی کورٹ کے ایک سبکدوش جج کے حوالے کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے طلباء بعض خارج کیے گئے اسٹوڈنٹس کے داخلے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ مطالبہ قابل قبول نہیں ہے۔

تاہم طلباء میں سخت ناراضگي ہے۔ ماس میڈیا کے طا لب علم محمد ایوب کا کہنا تھا کہ ’اب ہم وائس چانسلر سے بات چیت نہیں کریں گے بلکہ انسانی وسائل کے وزیر ارجن سنگھ سے ملیں گے اور یونیورسٹی میں ہونے والے حملوں کے بارے میں انہیں سے جواب طلب کیا جائےگا۔‘

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس پو پولیس تعینات ہے
فی الوقت دلی میں تقریبا سبھی یونیورسٹیز اور کالج گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھل گۓ ہیں۔ نۓ طلباء نے اسکول سے یونیورسٹی میں قدم رکھا ہے اور یونیورسٹی میں پہلے سے داخل طلباء چھٹیوں کے بعد واپس آئے ہیں۔ ہر طرف چہل پہل ہے لیکن جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سناٹا چھایا ہے۔ یونیورسٹی کا نیا سیشن شروع ہونا ہے لیکن غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جانے سے وہ طلباء زیادہ پریشان ہیں جو دور دراز علاقوں سے چھٹی کے بعد واپس آئے ہیں۔

بی ایس سی کے ایک طالب علم وثیق الرحمن کا کہنا ہے کہ ’میں ابھی آسام سے واپس آیا ہوں۔ اور آتے ہی یونیورسٹی بند ہوگئی۔ میں اب چاہوں بھی تو واپس نہیں جاسکتا۔ اس طرح کے واقعات طلباء کو نہ صرف ذہنی طور پر بلکہ اقتصادی طور پر بھی متاثر کرتے ہیں۔‘

ایک اور طالب علم امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ " اسطرح کے واقعات سے یونیورسٹی بدنام ہوتی ہے۔ جامعہ انتظامیہ کو اس معاملے کو سمجھداری سے سلجھا لینا چاہیۓ۔‘ طلباء اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ کہیں ان کا تعلیمی سال نقصان نہ ہوجائے۔

فی الوقت جامعہ ملیہ اسلامیہ بند ہے اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی کو کئی مرحلوں میں کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد