جامعہ ملیہ اسلامیہ: کشیدگی برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء اور انتظامیہ کے درمیان حالیہ تشدد کے بعد کشیدگی اب بھی برقرار ہے اور غیرمعینہ مدت کے لیے یونیورسٹی بند ہونے کی وجہ سے طالبعلموں کے درمیان اپنے تعلیمی مستقبل پر تشویش پائی جارہی ہے۔ انتظامیہ سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے طلباء احتجاج کررہے ہیں اور بعض کئی دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیھٹے ہیں۔ احتجاج کررہے طلباء میں کنفلکٹ اسٹڈیز کے طالب علم ستیہ پرکاش بھی شامل ہیں اور وہ گزشتہ دو روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ’پروکٹر نے کیمپس کے باہر کے لوگوں کے ساتھ مل کر ہم لوگوں کی پٹائی کی تھی اور ہم اس وقت تک اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کرینگے جب تک پروکٹر کو ان کے عہدے سے ہٹایا نہیں جاتا۔‘ طلباء اور یونیورسٹی کے بعض اسٹاف کے درمیان جھڑپ اس وقت ہوئي تھی جب داخلے کے سلسلے میں اسٹوڈنٹس کا ایک گروپ وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن سے ملنے گیا تھا۔ طلباء کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی نے بعض طلباء کو 'ٹیسٹ' پاس کرنے کے باوجود داخلہ نہیں دیا ہے اور انتظامیہ نے انہیں داخلہ نہ دینے کی وجوہات بھی نہیں بتائیں۔ طلباء کا الزام ہے کہ وائس چانسلر نے ان سے بات نہیں کی اور پروکٹر راکٹ ابراہیم نے بعض لوگوں کے ساتھ ملکر ان کی پٹائی کی۔ جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مشیرالحسن کا کہنا ہے کہ ’ہم جلد از جلد اس سارے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے پورے معاملے کی تفتیش ہائی کورٹ کے ایک سبکدوش جج کے حوالے کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے طلباء بعض خارج کیے گئے اسٹوڈنٹس کے داخلے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ مطالبہ قابل قبول نہیں ہے۔ تاہم طلباء میں سخت ناراضگي ہے۔ ماس میڈیا کے طا لب علم محمد ایوب کا کہنا تھا کہ ’اب ہم وائس چانسلر سے بات چیت نہیں کریں گے بلکہ انسانی وسائل کے وزیر ارجن سنگھ سے ملیں گے اور یونیورسٹی میں ہونے والے حملوں کے بارے میں انہیں سے جواب طلب کیا جائےگا۔‘
بی ایس سی کے ایک طالب علم وثیق الرحمن کا کہنا ہے کہ ’میں ابھی آسام سے واپس آیا ہوں۔ اور آتے ہی یونیورسٹی بند ہوگئی۔ میں اب چاہوں بھی تو واپس نہیں جاسکتا۔ اس طرح کے واقعات طلباء کو نہ صرف ذہنی طور پر بلکہ اقتصادی طور پر بھی متاثر کرتے ہیں۔‘ ایک اور طالب علم امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ " اسطرح کے واقعات سے یونیورسٹی بدنام ہوتی ہے۔ جامعہ انتظامیہ کو اس معاملے کو سمجھداری سے سلجھا لینا چاہیۓ۔‘ طلباء اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ کہیں ان کا تعلیمی سال نقصان نہ ہوجائے۔ فی الوقت جامعہ ملیہ اسلامیہ بند ہے اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی کو کئی مرحلوں میں کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں دلی: جامعہ ملیہ بند، طلباء پریشان 20 July, 2006 | انڈیا ’مسلم نشستیں مختص نہ کی جائیں‘24 April, 2006 | انڈیا علیگڑھ: مسلمانوں کا کوٹہ نہیں05 October, 2005 | انڈیا علیگڑھ: حکومت بھی عدالت میں06 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||