دلی: جامعہ ملیہ بند، طلباء پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کو غیر معینہ مدت کے لیئے بند کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے یہ قدم طلباء میں بے چینی کے بعد اٹھایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات جیسے ہی بہتر ہوں گے یونیورسٹی دوبارہ کھول دی جائےگی۔ جامعہ کیمپس میں پولیس کے دستوں کا پہرہ ہے۔ گزشتہ روز انتظامیہ اور طلباء کے درمیان تشدد کے بعض واقعات ہوئے تھے جس کے بعد کیمپس میں تھوڑ پھوڑ کی کاروائیاں ہوئی تھیں۔ وائس چانسلر پروفیسر مشیرالحسن نے اس سلسلے میں ایک پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ بعض شر پسند عناصر طلباء کے ساتھ مل کر تخریبی کاروائیاں کر رہے تھے اس لیئے کیمپس کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے اور یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ اس فیصلے کے بعد حالات قابو میں آجائیں گے اور ہم اس کے لیئے کوشش بھی کر رہے ہیں‘۔
تشدد کے دوران سٹوڈنٹس یونین کے صدر شمش پرویز اور ان کے دو ساتھی زخمی ہو گئے تھےجنہیں ہسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔ شمس پرویز کا کہناتھا کہ وہ بعض طلباء کے داخلے کے سلسلے میں وائس چانسلر سے ملنے گئے تھے وہاں پر وکٹر راکٹ ابراہیم نے ان پر حملہ کردیا اور انہیں بے رحمی سے مارا پیٹا گیا‘ ۔ لیکن وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ ان طلباء نے ہنگامہ آرائی کی تھی جنہیں یونیورسٹی پہلے ہی بلیک لسٹ کر چکی تھی۔’یہ کوئی اصولی یا نظریاتی تنازعہ نہیں ہے۔ اگر پڑھنے لکھنے والے طلباء ہوں گے تو انہیں داخلہ دیا جائےگا لیکن تشدد پرست عناصر کو ماحول خراب کرنے کا موقع نہیں دیا جائےگا‘۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں طلباء کو ہاسٹل خالی کرنے کے لیئے نوٹس دے دیا ہے لیکن طلباء میں اس کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایک طالب علم شاہد کا کہنا تھا کہ ایسے حالات ہرگز نہیں تھے کہ یونیورسٹی غیر معینہ مدت کے لیئے بند کی جاتی۔ انتظامیہ چاہتی تو باآسانی اس مسئلے کو حل کرسکتی تھی لیکن انتظامیہ نے آنًا فانًا فیصلہ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس معاملے میں اس کی کچھ غلطی ضرور تھی۔
پی ایچ ڈی کے طالب علم احمد لیثی کا کہنا تھا کہ جامعہ میں کئی بار ایسے مظاہرے یا احتجاج ہوئے ہیں لیکن اس طرح سے اسے بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ضرور انتظامیہ سے کوئی لاپرواہی ہوئی ہے جسے چھپانے کے لیئے یہ حرکت کی گئی ہے۔ اس سے قبل سنہ انیس سواکانوے میں جب پرفیسر مشیر الحسن پرو وائس چانسلر تھے تب برطانوی مصنف کی ایک کتاب پر ان کے بیان سے تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ حالات اتنے خراب ہوگئے تھے کہ یونیورسٹی کئی ماہ تک بند رہی تھی۔ مشیر الحسن نے دو برس قبل ہی جامعہ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں ترقی ہوئی ہے لیکن انتظامیہ میں بعض لوگ ان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ چندر روز قبل ہی موسم گرما کی طویل تعطیل کے بعد جامعہ دوبارہ کھلی تھی اور اس کے دوبارہ بند ہونے سے نہ صرف طلباء کا نقصان ہوگا بلکہ جامعہ کے بارے میں بھی منفی تاثر پیدا ہوگا۔ | اسی بارے میں ’اے ایم یواقلیتی یونیورسٹی نہیں‘05 January, 2006 | انڈیا ’مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار اس کی روح ہے‘19 April, 2006 | انڈیا عربی فارسی یونیورسٹی کا کیا مستقبل02 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||