عربی فارسی یونیورسٹی کا کیا مستقبل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ سترہ سال کے دوران بہار میں تین حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن ابھی تک انڈیا میں اپنی طرز کی واحد مولانا مظہرالحق عربی فارسی یونیورسٹی اپنے وجود کے لیئے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس بار معاملہ یونیور سٹی کے لیئے نئی عمارت فراہم کرنے کا ہے اور یہ معاملہ سنگین شکل اختیار کرگیا ہے۔ محکمہ تعمیرات کے وزیر مناظر حسن نے وزیر اعلٰی نیتیش کمار سے یونیور سٹی کے لیئے نئی عمارت فراہم کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن ان کی یہ گزارش وزیر اعلٰی تک پہنچنے سے پہلے ہی چیف سیکریٹری جی ایس کنگ نے یہ کہتے ہوۓ رد کردی کہ محکمہ تعمیرات یہ بتائے کہ یونیورسٹی کو اتنی بڑی عمارت کی ضرورت کیوں ہے۔ مولانا مظہرالحق عربی فارسی یونیور سٹی 1989 میں قائم کی گئی تھی۔ اس کا مقصد مشرق وسطٰی میں انڈین پروفیشنلز کی بڑھتی مانگ کو، عرب ممالک کی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ کر کے پورا کرنا تھا۔ یہ یونیور سٹی نہ صرف ریاست بہار بلکہ انڈیا میں اپنی طرح کی پہلی یونیورسٹی ہے جو مشرقی وسطٰی میں ملازمت حاصل کرنے کے لیئے طالب علموں کو مناسب تعلیم تربیت فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کی گئی تھی۔ لیکن 17 برس گزر جانے کے باوجود اس یونیورسٹی سے طالب علموں کی ایک جماعت تک نہیں تیار ہوسکی۔ کبھی یونیور سٹی کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا تو کبھی اس کے افسران نے کام کرنے کے لئے ضروری وسائل اور عملے کا رونا رو کر خود کو یونیور سٹی سے الگ کر لیا۔ چھہ مہینے پہلے جب نیتیش کمار کی قیادت میں نئی حکومت اقتدار میں آ ئی تو عوام میں امید بڑھی کہ شاید اس یونیورسٹی کی قسمت بھی جاگ جائے۔ محکمہ تعمیرات کے وزیر مناظر حسن نے اس سلسلے میں پیش قدمی بھی کی لیکن انھوں نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران چیف سیکریٹری جی ایس کنگ پر الزام لگایا کہ وہ یونیور سٹی کی بہتری کے راستے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں مزید یہ کہ وہ اس سلسلے میں وزیر اعلٰی کو بھی اندھیرے میں رکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب چیف سیکریٹری کنگ کا کہنا ہے کہ وہ اس میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ڈال رہے بلکہ ضروری معلومات حاصل کرنےکے لۓ محکمہ تعمیرات سے صرف جواب طلب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 1989 میں وزیر اعلٰی ڈاکٹر جگن ناتھ مشر کے دور میں مظہر الحق یونیور سٹی کے ساتھ تین دیگر یونیورسٹیوں کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔ باقی تین یونیور سٹیاں آج بخوبی کام کر رہی ہیں۔ لیکن مظہر الحق یونیور سٹی ہی ان میں صرف اکلوتی ہے جو اپنی پہچان نہیں بنا سکی ہے جس کے باعث مسلم اقلیتی حلقے میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں علیگڑھ: مسلمانوں کا کوٹہ نہیں05 October, 2005 | انڈیا ’مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار اس کی روح ہے‘19 April, 2006 | انڈیا ’اے ایم یواقلیتی یونیورسٹی نہیں‘05 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||