BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 April, 2006, 08:45 GMT 13:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلم نشستیں مختص نہ کی جائیں‘
علی گڑھ یونیورسٹی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انڈیا کو ہر شعبے میں بہترین پروفیشنل دیئے۔
انڈین سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس برس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مسلمانوں کے لیئے پچاس فیصد نشستیں مختص نہ کی جائیں۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ جب تک اس معاملے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں آ جاتا علی گڑھ یونورسٹی کا کردار اقلیتی ادارے کا ہی رہےگا۔

اب اس معاملے کی اگلی سماعت دس مئی کو ہوگی۔

گزشتہ برس مرکزی حکومت نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کر کے ’اے ایم یو‘ میں مسلمانوں کے لیے پچاس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت مسلم یونیورسٹی میں پیشہ وارانہ کورسوں میں مسلمانوں کے لیے پچاس فیصد سیٹیں مخصوص کر دی گئی تھیں۔

حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ملائے شکلا نامی ایک طالب علم نےالہ آباد ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست دائر کی تھی جس کے نتیجے میں ہائی کورٹ کے ایک جج نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو غیر آئينی قرار دیا تھا۔

جج نے مسلمانوں کے لیئے پچاس فیصد مخصوص کرنے کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔ تاہم علی گڑھ یونیورسٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

سرسیّد احمد خان کے قائم کردہ کالج سے یونیورسٹی بننے تک مسلم یونیورسٹی نے ایک لمبا سفر طے کیا ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انڈیا کو ہر شعبے میں بہترین پروفیشنل دیئے ہیں جنہوں نے ہر جگہ اپنی شناخت بنائی ہے۔

علی گڑھ یونیورسٹی علیگڑھ کا اقلیتی درجہ
’اقلیتی کردار ہی اس جامعہ کی اصل روح ہے‘
اسی بارے میں
حکومت کی خارجی مصیبت
12 February, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد