’مسلم نشستیں مختص نہ کی جائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس برس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مسلمانوں کے لیئے پچاس فیصد نشستیں مختص نہ کی جائیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ جب تک اس معاملے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں آ جاتا علی گڑھ یونورسٹی کا کردار اقلیتی ادارے کا ہی رہےگا۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت دس مئی کو ہوگی۔ گزشتہ برس مرکزی حکومت نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کر کے ’اے ایم یو‘ میں مسلمانوں کے لیے پچاس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت مسلم یونیورسٹی میں پیشہ وارانہ کورسوں میں مسلمانوں کے لیے پچاس فیصد سیٹیں مخصوص کر دی گئی تھیں۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ملائے شکلا نامی ایک طالب علم نےالہ آباد ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست دائر کی تھی جس کے نتیجے میں ہائی کورٹ کے ایک جج نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو غیر آئينی قرار دیا تھا۔ جج نے مسلمانوں کے لیئے پچاس فیصد مخصوص کرنے کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔ تاہم علی گڑھ یونیورسٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ سرسیّد احمد خان کے قائم کردہ کالج سے یونیورسٹی بننے تک مسلم یونیورسٹی نے ایک لمبا سفر طے کیا ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انڈیا کو ہر شعبے میں بہترین پروفیشنل دیئے ہیں جنہوں نے ہر جگہ اپنی شناخت بنائی ہے۔ |
اسی بارے میں ’اے ایم یواقلیتی یونیورسٹی نہیں‘05 January, 2006 | انڈیا علیگڑھ: حکومت بھی عدالت میں06 November, 2005 | انڈیا حکومت کی خارجی مصیبت 12 February, 2006 | انڈیا علیگڑھ میں مذہبی کشیدگی 06 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||