BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 July, 2006, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈین میڈیا: سیکس، منشیات پر مرکوز

ایک عشرے پہلے ہندوستان میں نوجوان بچے ڈاکٹر، انجینر اور بزنس ایگزیکٹو بننے کے خواب دیکھتے تھے لیکن اب وہ سب نیوز چینلز میں کام کرنا چاہتے ہیں۔

مسٹر ورما بھی ایسے ہی ایک نوجوان ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے ’آسمان کی اونچائیوں کو چھونا وہ بھی اپنے قدم پر زمین پر رکھے ہوئے‘۔ یہی ان کے بایوڈیٹا کی پہلی لائن تھی۔ یہ بایوڈیٹا انھوں نے مجھے نوکری کے لیئے بھیجا تھا۔

پہلے ہندوستان میں صرف ایک ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا۔ آج کے درجنوں کھل چکے ہیں۔ نوجوانوں کو ٹی وی کی نوکری اس لیئے بھی لبھاتی ہے کہ اس میں کسی تجربہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ایک دن ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ اندر جیت گپتا کو پارلیمینٹ جاتے وقت ایک صحافی نے کسی طرح انٹرویو کے لیئے راضی کر لیا۔ جب وہ انٹرویو کے لیئے راضی ہوگئے تو صحافی نے ان کی طرف مائیک کیا اور پوچھا ’سر آپ کچھ کہنا چاہیں گے‘ اور اس کا دوسرا سوال تھا ’سر آپ کون ہیں‘۔

ایسے کئی سو نوجوان ’نیوز اینکرنگ‘ یا خبروں کی میزبانی کے کورسز کرانے والے اداروں سے پڑھ کر نکلتے ہیں۔ ان اداروں میں یہ لوگ یہ سوچ کر بڑی فیسیں بھرتے ہیں کہ یہ کورس کرکے انہیں کسی بھی ٹی وی چینل میں خبریں پڑھنے کی نوکری آسانی سے مل جائے گی۔

بی بی سی کے بیشتر صحافی۔۔۔
 اپنے دوست کی بات سن کر میں بی بی سی کے اکیج کے بارے میں بڑا خوش ہوا۔ تبھی میں نے دیکھا کہ اس لڑکی نے اپنے بایوڈیٹا میں آگے لکھا تھا کہ ’بی بی سی کے بیشتر صحافی یا تو بوڑھے ہیں یا بد صورت‘۔

میرے پاس روز ایسے نوجوانوں کے بایوڈیٹا آتے ہیں۔ یہ دکھانے کے لیئے کہ یہ نوجوانوں صرف ذہین ہی نہیں خوش شکل بھی ہیں، ان کے بایوڈیٹا میں اکثر تصویر بھی لگی ہوتی ہے۔

کئی لوگ بی بی سی کے نام پر فرضی ٹریننگ دینے کا دعوٰی بھی کرتے ہیں۔ نوجوان ایسے لوگوں کے بہکاوے میں آکر بھاری فیسیں دیتے ہیں اور دھوکہ کھاتے ہیں۔

ایک بار ایک لڑکی نے مجھے اپنا بایوڈیٹا بھیجا جس میں اس نے اپنے بارے میں لکھا تھا کہ وہ ’جوان ہے اور جو‎ش اور جذبے‘ سے بھری ہے۔

انڈیا
حال ہی میں انڈیا میں نیوز چینلز کی بھرمار ہوگئی ہے

اگرچہ اس بات کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے کہ نیوز چینلز میں لڑکیوں کا جنسی استحصال ہوتا ہے یا نہیں لیکن وار فورنیوز بلاگ سپاٹ ڈاٹ کوم ایک ایسی ویب سائٹ ہے جس میں ایک معروف نیوز چینلز کے اعلٰی صحافیوں کے ہاتھوں جوان لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے قصے عام ہیں۔

اس ویب سائٹ سے اس نیوز چینلز کے ایڈیٹر کافی پریشان ہیں۔ اس سائیٹ کے بلاگ میں چینل میں کام کرنے والوں کی سگریٹ اور شراب پینے کی عادتوں کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ جب نیوز چینل کے ایڈیٹر نے ای میل کے ذریعہ یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ کون یہ بلاگ لکھ رہا ہے تو وہ ای میل بھی اس بلاگ پر چھپ گیا۔

پرانے زمانے کے اخباروں اور رسالوں کے ایڈیٹر جن کے اخبار بہترین صحافت کے لیئے پوری دنیا میں جانے جاتے تھے، آج کل خوفزدہ ہیں کیونکہ ان کی کمپنی میں کام کرنے والے نوجوان نہ صرف بڑی تنخواہ مانگ رہے ہیں بلکہ ان کے اشتہارات کے شعبے زیادہ سے زیادہ ’پیچ تھری‘ کے بارے میں خبریں چھاپنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ٹی وی چینلز زیادہ دھیان پیچ تھری کی خبروں پر دیتے ہیں اور وہی مقبول بھی ہیں۔

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہندوستان میں سنجیدہ نیوز چینلز نہیں ہیں۔ این ڈی ٹی وی سنجیدہ صحافت کے لیئے کافی مقبول ہے۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے ممبئی بم بلاسٹ کو جس طرح مختلف چینلوں پر کوریج ملی وہ 1993 میں ہونے والے بم بلاسٹ کی کوریج سے کہیں بہتر تھی۔

سنہ دو ہزار تین میں اگست کے مہینے ممبئی میں بم بلاسٹ ہوئے تھے اور اس میں کم از کم 55 لوگ ہلاک ہوگئے تھے لیکن زیادہ تر نیوز چینلز نے مرنے والوں کی غلط تعداد بتائی تھی۔ جس سے لوگوں میں غم و غصہ پھیل گیا تھا۔

ہندوستان میں میڈیا انڈسٹری کے لیئے سخت مقابلے کی فضا ہے۔

ہندوستان چاہے کتنا بھی ماڈرن ملک ہونے کا دعوٰی کرے اور جمہوریت کے کتنے ہی گن گائے لیکن وہ اب بھی غیر ملکی صحافیوں کو خاص واقعات براہ راست نشر کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

اس کے لیئے انتظامیہ سے دس دن پہلے اجازت لینی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی بم دھماکوں جیسے واقعات کو براہ راست نشر کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اب حکومت میڈیا پر کنٹرول رکھنے کے لیئے ایک قانون بنانے کی تیاری کررہی ہے۔ اس مجوزہ بروڈ کاسٹنگ بل کے تحت افسران نیوز چینلز میں استمعال ہونے والے کمیرے اور دوسرا ساز وسامان ضبط کرسکتے ہیں۔

این ڈی ٹی وی کی مینجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’اگر حکومت کو لگتا ہے کہ کسی نیوز رپورٹ سے ان کے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہ سوچ مضحکہ خیز ہی نہیں خطرناک بھی ہے‘۔

اگر یہ نیا قانون اپنے مقصد میں نا کام رہا تھا تو نیوز چینلز کا حال اور برا ہوجائے گا۔
مجھے خوشی ہے کہ بی بی سی کم از کم اس پریشانی سے تو بچا ہوا ہے۔ جب میرے دفتر کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں نے اپنے ایک دوست کو اس لڑکی کے بایوڈیٹا کے بارے میں بتایا جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ جوان ہے اور جوش اور جذبے سے بھری ہے تو اس کا کہنا تھا کہ ’اسے ہندوستان میں بی بی سی کے امیج کے بارے میں کچھ نہیں پتا کیونکہ بی بی سی لوگوں کو ان کی صلاحیت کی بنیاد پر نوکری دیتا ہے‘۔

یہ بات سن کر میں بی بی سی کے امیج کے بارے میں بڑا خوش ہوا۔ تبھی میں نے دیکھا کہ اس لڑکی نے اپنے بایوڈیٹا میں آگے لکھا تھا کہ ’بی بی سی کے بیشتر صحافی یا تو بوڑھے ہیں یا بد صورت‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد