BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 May, 2006, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ سوال نہیں پوچھا جا سکتا‘

رانچی یونیورسٹی
اب رانچی یونیورسٹی میں اخلاقیات اور ماحولیات کی تعلیم دی جائےگی۔
سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کے تعلقات کے بارے میں یونیورسٹی کے کسی طالب علم سے سوال کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

زیادہ تر لوگ شاید جواباً یہ سوال کریں کہ کیوں نہیں۔ مگر انہیں یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ یہ سوال رانچی یونیورسٹی میں نہ کیا جا رہا ہو۔

رانچی یونیورسٹی نے اس ہفتے بی اے کے طالب علموں سے جنرل نالج کے پرچے میں چند ایسے ہی سوالات پوچھے تو اس پر کافی اعتراضات کیئےگئے اور نصاب سے جنرل نالج کے مضمون کو ہی ہٹا دیا گیا۔

بہرحال، رانچی یونیورسٹی میں معلومات عامہ کے پرچے میں یہ پوچھا گیا تھا کہ ایک قبائلی لڑکی کے ساتھ جنسی فعل کے مبینہ سکینڈل میں ملوث جھارکھنڈ کے سابق آئی جی پولیس کا نام کیا ہے اور یہی سوال مقامی اخباروں میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ سال ایک سی ڈی کا زبردست چرچا ہوا تھا جس میں مبینہ طور پر جھارکھنڈ پولس کے آئی جی پی ایس پی نٹراجن کو ایک قبائلی لڑکی کے ساتھ جنسی فعل کا ارتکاب کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس لڑکی نے مسٹر نٹراجن پر جنسی استحصال کا الزام بھی لگایا تھا۔

اس سوالنامے میں یوپی کے اس آئی جی پولیس کا نام بھی پوچھا گیا ہے جو خود کو ’رادھا‘ بتانے کے سبب نوکری سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ سکیم کے تحت سبکدوش ہو چکے ہیں۔

اسی طرح ایک اور سوال میں یہ پوچھا گیا کہ رنجنا پالت کے قتل کے جرم میں کس پولیس انسپکٹر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے؟

رضاکارانہ ریٹائرمنٹ سکیم کے تحت سبکدوش ہونے والے آئی جی پولیس دیوندر کمار پانڈا

رانچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اے اے خان کہتے ہیں کہ اس طرح کے سوالات اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معاشرتی اخلاقیات کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سوالنامہ تیار کرنے والے اساتذہ سے اس طرح کے سوال پوچھنے کی امید نہیں تھی مگر بقول مسٹر خان شاید’ آج کے پروفیسر بھی میڈیا میں زیر بحث موضوعات سے متاثر ہوکر سوالات سیٹ کرتے ہیں‘۔

دوسری جانب معاشرتی مطالعات کے ڈین پروفیسر ایس کے سنہا کہتے ہیں کہ جنرل نالج کے طلباء سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اخباروں کا مطالعہ کرتے ہوں گے اور حالت حاضرہ کے سوالات انہیں خبروں سے متعلق ہو سکتے ہیں جن کا ذکر ہوتا رہا ہو۔

ڈاکٹر خان نے بتایا کہ اب آئندہ سیشن سے جنرل نالج یا معلومات عامہ کی جگہ اخلاقیات اور ماحولیات کی تعلیم دی جائےگی۔

بہار اور جھارکھنڈ یونیورسٹیوں میں جب سے جنرل نالج یا جنرل سٹڈیز کی پڑھائی شروع ہوئی ہے تو کبھی سوال کے معیار کو لے کر تو کبھی نمبر دینے میں مبینہ دھاندلی کے معاملے پر تنازع پیدا ہوتا رہا ہے۔ اکثر کالجوں میں معلوماتِ عامہ کے مضمون کے لیئے الگ سے کوئی استاد نہیں ہوتے اور نہ اس کے لیئے کوئی نصاب مقرر ہوتا ہے مگر ان تمام تنازعات کے باجود جامعات میں اس مضمون کی تدریس جاری تھی۔ اس مضمون کی تدریس کے لیے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں جنرل سٹڈیز کا پرچہ بھی شامل ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد