’کرشنا‘ کی محبوبہ، آئی جی پولیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست اترپردیش میں حکام اس کشمش میں مبتلا ہیں کہ اس سینیئر پولیس افسر کے ساتھ کیا سلوک کریں جو گزشتے ہفتے پیلے کپڑے پہنے ہوئے لِپ سٹِک لگاکر عدالت میں آگیا۔ ریاست کے انسپکٹر جنرل دیوندر کمار پانڈا ہیجڑوں کا لباس پہننا پسند کرتے ہیں۔ ان کا فوٹو لینے ٹیلی ویژن والے ان کے گھر پہنچے تو وہ ہندوؤں کے دیوتا ’کرشنا‘ کی ایک درخت کی شکل میں عبادت کررہے تھے۔ دیوندر کمار پانڈا کا کہنا ہے کہ دراصل وہ دیوی ’رادھا‘ کے اوتار ہیں جو کہ کرشنا کی محبوبہ تھیں۔ ان کی اہلیہ اس واقعے پر ایک مختلف موقف رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے طلاق کے لئے درخواست دی ہے کیوں کہ وہ شوہر کے حقوق پورے نہیں کررہے۔ لکھنؤ میں ایک عدالت نے انسپکٹر جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کو سات ہزار روپئے فی ماہ گزارہ الاؤنس ادا کریں۔ لیکن ان کی اہلیہ ’وینا‘ کو دوسری فکر یہ ہے کہ ان کی نوکری چلی جائے گی اور اس کے بعد انہیں گزارہ الاؤنس نہیں ملے گا۔ وینا نے صحافیوں کو بتایا: ’برائے مہربانی میرا مستقبل خیال میں رکھیں۔ میں ایک اکیاون سالہ عورت ہوں اور ایک گریجوئٹ ہوں۔ مجھے ان کے خلاف کارروائی کی وجہ سے نقصان نہیں ہونا چاہئے۔‘ وینا اور پانڈا کی شادی تینتیس سال قبل ہوئی تھی۔ ان کے دو بیٹے بھی ہیں۔ لیکن پانڈا اب اپنی فیملی کی جانب توجہ نہیں دیتے۔ وہ اپنا وقت پیپل کے درخت کو پکڑے ہوئے منتر پڑھتے رہتے ہیں۔ ان کے گھر میں ایک کمرہ خفیہ اور مقدس بناکر رکھا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’یہ میرا نجی کمرہ ہے۔ یہاں صرف کرشنا داخل ہوسکتے ہیں۔‘ ہندو سادھوؤں کے لئے علی الصباح اٹھنا اور ویدوں کے کلمات پڑھنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ ہندو فرقوں کے لئے دیوتاؤں کی محبوب کی شکل میں پوجا کرنا بھی کوئی عجیب بات نہیں، اور مردوں کے لئے بھی یہ عجیب بات نہیں کہ وہ خواتین پیروکاروں کی طرح پیش آئیں۔ لیکن دیوندر کمار پانڈا کی پوزیشن مختلف ہے، کیوں کہ وہ ریاست کے سب سے اعلیٰ پولیس افسر ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے خواتین کے لباس پہننے کے ان کے شوق کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن اب انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑرہا ہے کہ وہ ان کے بارے میں کیا رویہ رکھیں جو عوامی سطح پر مضحکہ خیز بن گئے ہیں۔ ریاست کے ڈائرکٹر جنرل یشپال سنگھ اعتراف کرتے ہیں: ’مسٹر پانڈا کا رویہ اور ان کی شکل عجیب ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ وہ کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں اور ان کے خلاف کارروائی سے معاملہ بگڑ سکتا ہے۔‘ |
اسی بارے میں ہیجڑوں کی سیاست میں شمولیت14.02.2002 | صفحۂ اول ہیجڑوں کی سیاست میں شمولیت14.02.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||