BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2003, 12:10 GMT 16:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ووٹ، نہ پاسپورٹ‘

شرکاء کہتے ہیں: ’ہم سے دوسرے شہریوں کی طرح کا برتاؤ کیا جائے اور ہمیں ہمارے حقوق دیئے جائیں۔‘

فمیلا کی عمر بیس برس سے کچھ زیادہ ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو جنسی تسکین پہنچا کر اپنی روزی کماتے ہیں اور اس پیشے سے مطمئن ہیں۔

بنگلور کے اس سالانہ میلے میں رقص و سرود کے علاوہ یہاں مقابلہ حسن منعقد ہوتا ہے اور اپنے سماجی اور معاشی مسائل سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے یہ لوگ چراغاں کرتے ہیں۔

فمیلا ایک غیرسرکاری تنظیم سے وابستہ ہیں جس کا مقصد ہیجڑوں کے حقوق کے لئے کام کرنا ہے۔ اس تنظیم کا نام ’ویویدھا‘ ہے جس کے معنی مختلف یا الگ کے ہیں۔ فمیلا کی خواہش ہے کہ وہ اس تنظیم کو مرد اور عورت ہم جنس پرستوں کو یگانہ بنانے کے لئے استعمال کریں۔

اس میلے میں جنوبی بھارت سے ہیجڑے شرکت کرتے ہیں۔ وہ رنگی برنگی ساڑھیوں اور شلوار قمیض میں ملبوس ہوتے ہیں۔

اس میلے میں تماش بینوں کی بھی خاصی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ ایک امریکی طالبعلم کا کہنا تھا کہ وہ یہ دیکھنے آئے ہیں کہ یہ رونق کس بارے میں ہے۔

اگرچہ یہ عام خیال یہی ہے کہ ہیجڑے جسم فروشی کرکے روزی کماتے ہیں مگر یہ خیال سو فی صد درست نہیں ہے۔ اکتیس سالا پرییا کا کہنا ہے کہ ان کے معاملہ میں یہ بات غلط ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ جو ہیجڑے ایسا کرتے ہیں ان کی اکثریت مجبوراً ایسا کرتی ہے کیونکہ معاشرے میں ان سے امتیاز برتا جاتا ہے اور انہیں نوکریاں نہیں دی جاتیں۔

وہ خود ایک رضاکار تنظیم سے وابستہ ہیں اور شادی شدہ ہیں۔ ان کے شوہر ایک سیلزمین ہیں جن کا نام بابو ہے۔

تاہم قانوناً ہیجڑے سے شادی نہیں کی جا سکتی اس لئے اس شادی کا اندراج بھی نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاہم بابو کا کہنا ہے کہ انہیں اس فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

ودیا ایک اور ہیجڑا ہے۔ ان کی عمر اکتالیس برس ہے۔ ان کا کہنا تھا ’میں نے اپنے شوہر کو دوسروں سے خفیہ رکھا ہے تاکہ انہیں معاشرے کی حقارت سے بچایا جا سکے۔اور ان کو ایک اور شادی کی اجازت بھی دے رکھی ہے جس سے ان کے چار بچے ہیں۔‘

ودیا جو روانی سے انگریزی بولتی ہیں سائنس گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ نہ وہ ووٹ دے سکتی ہیں اور نہ ہی پاسپورٹ حاصل کر سکتی ہیں۔

بنگلور میں تقریباً دو ہزار ہیجڑے رہتے ہیں جبکہ بھارت میں ان کی تعداد کا اندازہ پانچ سے دس لاکھ ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد