انشورنس: ہیجڑوں کی درخواست مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ہیجڑے انشورنس کی ایک حکومتی کمپنی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جس نے ایک ہیجڑے کو انشورنس پالیسی جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔ لیکن لائف انشورنس کارپوریشن کے ایک ترجمان نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔ ہیجڑے کا نام جانکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے تعجب ہوا جب کمپنی نے انشورنس پالیسی کی اس کی درخواست مسترد کردی۔ جانکی کا کہنا ہے کہ اس کی درخواست اس کی جنس کے بارے میں ابہام کی وجہ سے مسترد کردی گئی۔ جانکی ریاست تامل ناڈو کے شہر ویلور میں لوگوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرکے اپنی روزی روٹی کماتی ہے۔ وہ آج کل کافی غصے میں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انشورنس کمپنی عمارتیں، گائے، بھیڑ، فصلیں، جیسی ہر شئے کی پالیسی جاری کرتی ہے۔ جانکی آج کل جاننا چاہتی ہے کہ جب وہ ووٹ دینے کی اہل ہے، اس کے پاس راشن کارڈ ہے، تو اسے انشورنس کی پالیسی کیوں نہیں ملتی؟ کمپنی کے ممبئی دفتر میں ایک ترجمان سے اس الزام سے انکار کیا کہ ہیجڑوں کو انشورنس کی پالیسی جاری نہیں کی جائے گی۔ لیکن کمپنی کے ایک اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ کمپنی کی پالیسی ہے کہ کوئی مرد یا عورت ہی انشورنس کے لئے درخواست دے سکتا ہے۔ کمپنی کے اس اہلکار کا کہنا تھا کہ کمپنی کے قوانین کے تحت ہیجڑوں سے ملنے والی درخواستیں عام طور پر مسترد کردی جاتی ہیں۔ جانکی کا کہنا ہے کہ اگر کمپنی نے معاملے کا حل نہیں کیا تو وہ عدالت سے استدعا کرے گی۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں پانچ لاکھ لوگ ایسے ہیں جن کی جنس کے بارے میں ابہام ہے، یعنی وہ ہیجڑے ہیں یا ان کی جنس کی نوعیت کچھ اور ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||