BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 March, 2006, 07:33 GMT 12:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
استاد بھارت میں شاگرد سات سمندر پار

بھارت میں انٹرنیٹ
تعلیمی شعبے میں آؤٹ سورسنگ کی یہ ایک نئی شروعات ہے جس میں ہندوستان نےگزشتہ مہینوں میں تیزی سے پیش قدمی کی ہے
ہندوستان میں ای لرننگ یعنی انٹر نیٹ پر درس و تدریس کا سلسلہ تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے ہزاروں طلباء انٹر نیٹ پر ہندوستانی اساتذہ سے طبیعات، کیمیا، حساب اور انگریزی جیسے مضامین میں تعلیم حاصل کرہے ہیں اور کال سینٹرز کی طرح ای ٹیوشن کا یہ نیا کاروبار تیزی سے ترقی کررہا ہے۔

کیلیفورنیا کی الیزا ہوں یا سوئزر لینڈ کی ریشل یا پھر دبئی میں نبیل دنیا بھر کے طلباء آج کل دورد راز ملکوں میں بیٹھے اپنے اساتذہ سے انٹر نیٹ پر ٹیوشن پڑھ رہے ہیں۔ پڑھنے پڑھانےکے یہ ایک نئے دور کا آغازہے جس میں طلباء اور اساتذہ ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور ہیں لیکن براہ راست سیشنز میں درس و تدریس کی تمام سہولیات مہیّا ہیں۔ بھارت میں بی پی اوز کی کمی نہیں ہے لیکن تعلیمی شعبے میں آؤٹ سورسنگ کی یہ ایک نئی شروعات ہے جس میں ہندوستان نےگزشتہ مہینوں میں تیزی سے پیش قدمی کی ہے۔

دلی میں ای لرننگ کی شروعات کرئیر لانچر نامی ایک تعلیمی ادارے نے کی تھی۔ادارے میں ای لرننگ شعبے کے پرنسپل انرودھ پھڈکے نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتداء میں اسکی کامیابی کی امیدیں کم تھیں لیکن اب اس کا دائرہ دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ ’ڈر یہ تھا کہ بھارت کے اساتذہ شاید بیرونی ممالک کی طرز تعلیم اورمعیار پر پورا نہ اتریں لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ طلباء ہمیں بہت سراہتے ہیں اور ہم سب مطمئن ہیں‘۔

مسٹر پھڈکے کا کہنا ہے کہ آؤٹ سورسنگ عام طور پیسے بچانے کے لیے کی جاتی ہے لیکن ہندوستانی ای ٹیوشن مراکز کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ’ہندوستان میں ٹیوشن کے لیے بھی ہرموضوع پر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ دستیاب ہیں‘ جبکہ امریکہ اور یورپ میں ٹیوشن کو عام طور پر مستقل پیشہ نہیں سمجھا جاتا جسکے سبب معیاری اساتذہ کی خدمات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

کرئیر لانچر کی ایک ٹیچر رچی ڈوڈیجا نے بتایا کہ کسی بھی موضوع پر پہلےنصاب کی تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں اور پھر ضروریات کے مطابق طلباء کو تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ ’ابھی ہم سے زیادہ تر سائنس کے مضامین میں مدد لی جاتی ہے لیکن اب انگریزی ادب اور کمپیوٹرسائنس کے مضامین کی پیش کش بھی کی گئی ہے۔ ‘

انرودھ پھڈکے کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ای لرننگ ابھی نیا بزنس ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ مقبول ہورہا ہے اور مستقبل میں یہ تعلیم پھیلانے کا یہ سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔ ’یہ کوششیں ہورہی ہیں کہ دنیا بھر میں سبھی کو معیاری تعلیم ملنی چاہیے ۔اور میرے خیال سےاس مقصد کے لیے اس سے بہتر اور سستا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہوسکتاہے اس لیے مستقبل میں اسکی ترقی کی راہیں کافی ہموار ہیں‘۔

کریئر لانچر نے ای لرنگ کے ستّر سے زائد مراکز کھولے ہیں اور دنیا بھر کے تقریباً پچیس ہزار طلباء کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ملک کے کئی بڑے شہروں میں دیگر کمپنیوں نے بھی یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں ای لرنگ سسٹم تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ چند ہی برسوں میں ہندوستان میں کال سینٹرز کی طرح ای لرنگ کے مراکز ہونگے جہاں اساتذہ کیوبکل قطار میں بیٹھ کر بین الاقوامی کلاس روم میں پڑھا رہیں ہونگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد