BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 May, 2006, 03:41 GMT 08:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیبل آپریٹر: شدت پسندوں کی اجازت

ksmyr
آپریٹرز پریشان ہيں کہ وہ دیگر تنظیموں کی طرف سے دی گئی دھکیوں کا کیا کريں
انڈیا کے زير انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ سولہ برسوں سے سرگرم دو معروف مقامی شدت پسند تنظیموں حزب المجاہدین اور حرکت المجاہدین نے وادی کے کیبل آپریٹروں کو ’فحش چینلوں‘ کے علاوہ اپنی سروس بحال کرنے کے لیے ہری جھنڈی دے دی ہے۔

لیکن اس کے باوجود آپریٹرز پریشان ہيں کہ وہ دیگر تنظیموں کی طرف سے دی گئی دھکیوں کا کیا کريں؟

کشمیر میں کیبل سروس چلانے والی دو انجمنوں کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر سروس مکمل طور سے بند ہو جاتی ہے تو تقریبا 25 ہزار لوگوں کا روز گار متاثر ہوگا۔

ترجمان کا کہنا تھا ’ہم کریں تو کیا کریں، ہمیں صرف نامعلوم تنظيموں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ مقامی سطح پر بھی کئی ٹیلی فون کالز آرہی ہیں۔ ہم پر بہت دباؤ ہے کہ سروس کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے‘۔

سرینگر جنسی سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد کیبل آپریٹرز پر پابندی عائد کرنےکی شروعات ہوئیں۔

سب سے پہلے ایک غیر معروف شدت پسند تنظيم المدینہ نے کیبل آپریٹرز کو سروس بند کرنے کو کہا۔ اس دھمکی کے بعد اجتماعی طور پر چار شدت پسند تنظیموں نے کیبل آپریٹرز پر پابندی لگانے کا اعلان کیا۔

دھمکیوں سے پریشان کیبل آپریٹرز کی سب سے بڑی انجمن ’آل کشمیر کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن‘ نے زبردست احتجاجی مظاہرے کیے اور علحیدگی پسند اتحاد کل جماعت حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے ہیڈ کواٹر پر جاکر ان سے اپیل کی کہ وہ شدت پسند تنظیموں کی سروس پر عائد پابندی کو ہٹانے کے لیے کوشش کريں۔

احتجاج کے دوران کیبل آپریٹرز نے کہا ’ہم نے دھمکیوں کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے ۔ ہم اپنی زندگیوں کو یوں داؤں پر نہيں لگا سکتے۔ خدا کے لیے ہمیں بے روز گار ہونے سے بچاؤ‘۔

مظاہرے کی شدت کو دیکھتے ہوئے حزب اور حرکت کی طرف سے کشمیر کی مقامی خبر رساں ایجنسیوں کو فیکس کے ذریعے پیغام موصول ہوئے جن میں کیبل آپریٹرز سے فوری طور پر سروس بحال کرنے کو کہا گیا تھا۔

’ہم سمجھتے ہيں دراصل کیبل پر پابندی جنسی اسکینڈل سے متعلق ایک سازش ہے۔ جن جذبات اور بے باکی سے کیبل آپریٹرز نے جسنی اسکینڈل میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا ہم اس جذبے کو سلام کرتے ہیں‘۔

کیبل آپریٹرز کی انجمنوں کے ساتھ حزب کی ہری جھنڈی کے حوالے سے بات کی تو انہو ں نے کہا کہ جب تک انہيں اس بات کا یقین نہيں ہوتا کہ واقعی پابندی ہٹائي گئی ہےتب تک وہ جلد بازی میں فیصلہ کرنے سے گریز کریں گے۔

خواتین کی علحیدگی پسند تنظيم دختران ملت نے بھی کیبل آپریٹرز سے اپنی سروس بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔

حزب المجاہدین کے ترجمان جنیدالاسلام نے مقامی انجمنوں کے نام اپنے ٹیلی بیان میں دیگر تنظیموں کو مشورہ دیا ہےکہ وہ اپنی طرف سے لگائی گئی پابندی پر از سر نو غور کریں۔
ٹیلیفونک بیان میں مزید کہا گیا ’جسنی اسکینڈل کے تعلق سے احتجاجی مظاہروں اور لوگوں کے غم و غصے کو اچھی کوریج دیں اور فحش چینلوں کو بند کر کے سروس بحال کر دے‘۔

کشمیر کے دانشور اور سماجی تنظیموں نے بھی کیبل آپریٹرز کے حق میں باتیں کی ہيں لیکن پھر بھی مختلف حلقوں سے آپریٹرز کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد