BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تفتیش پر بھروسہ نہیں‘

سری نگر
لوگوں نے اس خاتون کے گھر پر حملہ کر دیا تھا جس پر الزام ہے کہ وہ یہ دھندا چلا تی تھیں
سری نگر جنسی سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ریاستی پولیس، انتظامیہ اور نیم فوجی دستوں کے اعلی افسران کے نام ظاہر کرنےکے لیئے ریاستی حکومت پر عوام اور دیگر حلقوں سے دباؤ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ کئی حلقوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اس سلسے میں مرکزی تفشیش بیورو کی طرف سے کی جارہی جانچ بے سود ثابت ہوگی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر وادی میں سرگرم خواتین کی علیحدگی پسند جماعت دختران ملت کی مانگ ہے کہ اس سکینڈل کی تحقیقات کا ذمہ ریاستی ہائی کورٹ کی فل ڈویثرن بینچ کو سونپا جائے۔

دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے اس سلسلہ میں بی بی سی کو بتایا کہ کشمیری عوام کو سی بی آئی کے ذریعہ جانچ کرائے جانے پر اعتراض ہے کیونکہ بقول ان کے ماضي میں کئی کیسوں میں اس تفشیشی ادارے نے کشمیر کے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہائی کورٹ کے فل بینچ میں اس کیس کی سماعت ہو۔ ہمیں عدالت کے باشعور وکلاء کی دیانت داری پر مکمل اعتماد ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ پولیس نے اسکینڈل کے کئی اہم ثبوت پہلے ہی مٹا دیئے ہیں اور ہماری مانگ شاید ٹھکرائی جائے گی لیکن ہم اس سلسلے میں اپنی کوشش جاری رکھيں گے‘۔

علیحدگی پسند جماعت کی طرف سے ریاستی عدالت عالیہ پر بھروسے کی یہ پہلی مثال ہے۔

ریاستی حکومت کے ایک نوٹیفیکشن پر سی بی آئی کی ایک ٹیم وادی پہنچ رہی ہے۔

سکینڈل کے حوالے سے کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک درخواست دی تھی جسے وہ مفاد عامہ کے طور پر داخل کروانا چاہتی تھی لیکن ریاستی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس بشیر احمد خان نے دائر کردہ مفاد عامہ کے کیس کو ڈویژنل بنچ کے بجائے سنگل بنچ میں سماعت کے لیئے مقرر کیا ہے۔

بار ایسوسی ایشن نے اس پر زبردست احتجاج کیا۔ وکلاء نے ریاستی حکومت اور پولیس کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور اس بات پر زور دیا کہ سکینڈل میں ملوث افسران کے نام لوگوں کے سامنے رکھے جائیں۔

بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’سی بی آئی کی جانچ پر کشمیری عوام کو یقین نہیں ہے اور سکینڈل میں ملوث افسران کو سزا دلانے کے لیئے ریاستی عدالت عالیہ کی ہدایت پر فل ڈویژن بنچ کے ذریعہ تحقیقات کرائی جاۓ۔ ہمیں ریاستی پولیس اور مرکزی تفشیشی بیورو( سی بی آئی) پر بھروسہ نہیں ہے‘۔

دوسری جانب ریاستی عدالت عالیہ نے ریاست جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری وجے بقایا اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس گوپال شرما کو جنسی سکینڈل کے سلسلے میں بارہ مئی کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس حکیم امتیاز حسین نے ریاست کے دو اعلیٰ افسران سے کہا ہے کہ سکینڈل کے حوالے سے سی بی آئی کو سونپے گئے تمام ثبوت اور دستاویزات سے عدالت کو آگاہ کیا جاۓ۔

علیحدگی پسند اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے سینیر لیڈر نعیم اللہ خان نے سکینڈل کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ کشمیر میں سماجی بدعات اور بے راہ روی کو، ان کے بقول، ریاست کے پشت پناہی حاصل ہے۔ اور اس لیئے کیس کی تحقیقات ’چاہے سی بی آئی سے کرائی جائے یا ہائی کورٹ کے ذریعہ نتیجہ کچھ نہیں ہوگا‘۔

اخباروں کے ذریعہ سیکس سکینڈل کا ایکسپوز ہونا کشمیری قوم کے لیئے شرمناک واقعہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں سماجی بدعات کو عام کرنے کے پیچھے سیدھے ریاستی حکومت اور پولیس کا ہاتھ ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیکس سکینڈل کے خلاف عوام نے کئی روز تک احتجاجی مظاہرے کیئے اور اس کیس میں مبینہ طور پر اہم ملزم سبینہ کے گھر کو بھی جلایا گیا۔ علیحیدگی پسند تنظیموں مسلم لیگ ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی اور دختران ملت نے بھی احتجاجی مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد