جسم فروش گروہوں کاپردہ فاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی پولیس نے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے دو گروہوں کا پردہ فاش کیا ہے جو جنوبی کوریا سے سینکڑوں عورتوں کو جسم فروشی کے دھندے کے لئے کیلیفورنیا لاتا تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں 50 افراد کو گرفتار کیا ہے اور ڈیڑھ سو عورتوں کو حفاظتی حراست میں لیا گیا ہے اوران لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ یہ عورتیں درجنوں قحبہ خانوں میں کام کر رہی تھیں جو لاس اینجلس اور سن فرانسسکو میں بظاہرمساج کلینک بنے ہوئے تھے۔ امریکہ میں انسانوں کی اسمگلنگ کا یہ اب تک کا سب سے بڑا واقع ہو سکتا ہے۔ لاس اینجلس میں ایک پریس کانفرنس میں امریکی اٹارنی ڈیبرہ وانگ ینگ نے کہا کہ اس طرح کی تنظیمیں تارکین وطن کے خوابوں اور امیدوں کا غلط فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان عورتوں کو امریکہ لانے کے لئے 16000 فی کس ڈالر وصول کئے گئے تھے۔ اور اس گروپ کے لئے جسم فروشی کا کام کرکے یہ عورتیں اپنا قرضہ ادا کر رہی تھیں۔ گرفتار ہونے والوں پر غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دینے کی سازش کرنے ، جسم فروشی کا کام کروانے اور انسانوں کی اسمگلنگ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ خواتین میکسیکو اور کینڈا کی سرحدوں سے داخل ہوئی تھیں جبکہ کچھ نے غیر قانونی ڈھنگ سے حاصل کئے گئے ٹوورسٹ ویزہ کا استعمال کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||