BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 December, 2003, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہوس کا عالمی دھندہ
پولیس زیادتی کا شکار لڑکیوں کے لئے نئی سکیم کا اجراء کر رہی ہے

غریب ممالک کی لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر لانے اور پھر ان سے زبردستی جسم فروشی کا کام لینے کے ہولناک عالمی کاروبار کے لئے برطانیہ بہترین منزل بن گیا ہے۔

بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس نئے کاروبار کے لئے غریب ملکوں کی لڑکیوں کو یہاں لاکرانہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اکیس سالہ جولیا کا تعلق البانیہ سے ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں برطانیہ میں شمالی البانیہ کے ایک دور افتادہ علاقے سے لایا گیا۔

نرم گفتار جولیا جن کی نگاہیں بولتے وقت نیچے جھکی رہیں، بتاتی ہیں کہ ان کے والد اپنی اجرت شراب پینے پر برباد کر دیتے تھے اور ان کی والدہ کو خاندان کی پرورش کے لئے اپنا خون بیچنا پڑتا تھا۔

ایک روز ان کے ایک کزن ان کے گھر آئے اور جولیا کو شادی کا پیغام دیا۔ کزن نے کہا کہ وہ دونوں باہر چلے جائیں گے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔

جولیا مان گئیں اور دونوں وہاں سے تو نکل گئے لیکن جلد ہی جولیا کو معلوم ہوگیا کہ وہ ایک کاروباری شخص کے ہاتھ لگ گئی ہیں۔ لڑکیوں کو بیچنے والا یہ دلال جولیا کو البانیہ سے اٹلی لے آیا۔

جسم فروشی کا کاروبار
پولیس کا کہنا ہے کہ ہر سال چودہ سو لڑکیاں غیر قانونی طور پر برطانیہ لائی جاتی ہیں جہاں ان سے جسم فروشی کرائی جاتی ہے اور یہ دھندہ اتنا ہی منافع بخش ہے جتنا منشیات کا کاروبار۔
پولیس

پھر میلان کی سڑکوں پر جولیا سے جسم فروشی کی ابتدائی مشقیں کرائی گئیں جس کے بعد جولیا کو ایک لاری کے ذریعے برطانیہ بھیج دیا گیا۔ جہاں انہیں فوراً ہی ’دھندہ‘ کرنا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں ایک رات میں بیس بیس مردوں کی آتشِ ہوس کو ٹھنڈا کرنا پڑتا تھا۔

شکایت پر جولیا کے ساتھ مار پیٹ کی جاتی یا چھری سے اس کے جسم کو کاٹا جاتا کیونکہ دلال چاہتا تھا کہ وہ زیادہ مشقت کریں اور پیسہ بنائیں۔ ان کا جسم زخموں کے نشانوں سے بھرا پڑا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اس زندگی سے فرار کی کوشش انہوں نے اس لئے نہیں کی کہ انہیں خطرہ تھا کہ دلال انہیں جان سے مار دے گا۔ چانچہ پانچ برس وہ یہی کام کرتی رہیں۔ انہیں اپنے چھوٹے بھائی اور بہن کا بھی خیال تھا کہ انتقاماً انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دیا جائے۔ جولیا نے پولیس سے رابطہ اس لئے نہ کیا کہ انہیں غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے کی پاداش میں فورً واپس بھیج دیا جائے گا۔

جولیا جسم فروشی کے چنگل سے اس وقت نکلیں جب بازارِ حسن میں کام کرنے والے ایک لڑکی نے ان کے جسم پر زخم دیکھنے کے بعد انہیں کہا کہ وہ ایک ہفتے کے لئے اس کے گھر رہ سکتیں ہیں۔

گاہکوں کو پروا نہیں ہوتی کہ جنسی تسکین کے لئے وہ جس لڑکی کے پاس آئے ہیں وہ مجبور ہے یا اپنی مرضی سے یہ کام کر رہی ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ ہر سال چودہ سو لڑکیاں غیر قانونی طور پر برطانیہ لائی جاتی ہیں جہاں ان سے جسم فروشی کرائی جاتی ہے اور یہ دھندہ اتنا ہی منافع بخش ہے جتنا منشیات کا کاروبار۔

پولیس افسر کرس بریڈفورڈ کہتے ہیں کہ جب جسم بیچنے والی کوئی لڑکی ناکارہ ہوجاتی ہے یا اگر اسے کوئی مرض لاحق ہوجائے تو اسے ٹھیک اسی طرح باہر نکال دیا جاتا ہے جیسے کسی خراب فرج یا ٹوٹی ہوئی واشنگ مشین کو پھینک دیا جاتا ہے۔ ’ایسی لڑکی کو محض ایک شے سمجھا جاتا ہے۔‘

گزشتہ ماہ جنسی استحصال کے لئے لڑکیوں کے کاروبار کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے جس پر چودہ سال جیل ہو سکتی ہے۔

جولیا جیسی لڑکیوں کے لئے حکومت ایک سکیم کا اجراء بھی کر رہی ہے۔ ایسی لڑکیوں کو سیف ہاؤس میں رکھا جائے گا جہاں سے وہ کالج جاسکیں گی اور انگریزی لکھنا اور پڑھنا سیکھ سکیں گی۔ جولیا یہ سب کچھ کر رہی ہیں اور ہیئر ڈریسر بننا چاہتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد